Health
موڈرنا کی نئی ایم آر این اے فلو ویکسین: 50 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے ایف ڈی اے کی منظوری
امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے 50 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کے لیے موڈرنا کی ایم آر این اے فلو ویکسین mFLUSIVA کی منظوری دے دی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ایف ڈی اے نے موسمی انفلوئنزا کے لیے ایم آر این اے ٹیکنالوجی پر مبنی ویکسین کو لائسنس دیا ہے۔
امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) نے ایک اہم طبی پیشرفت کے تحت موڈرنا کی تیار کردہ ایم آر این اے (mRNA) فلو ویکسین، جسے mFLUSIVA کا نام دیا گیا ہے، کو 50 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کے لیے استعمال کرنے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ یہ اقدام طبی دنیا میں ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہ پہلا موقع ہے کہ ایف ڈی اے نے موسمی انفلوئنزا کے علاج اور بچاؤ کے لیے ایم آر این اے ٹیکنالوجی پر مبنی ویکسین کو لائسنس دیا ہے۔ اس سے قبل اس ٹیکنالوجی کا کامیاب استعمال کووڈ-19 کے خلاف لڑائی میں دیکھا گیا تھا، اور اب اسے فلو کے خلاف بھی مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔
اس نئی ویکسین کے بارے میں طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایم آر این اے ٹیکنالوجی روایتی ویکسین سازی کے مقابلے میں زیادہ لچکدار ہے، کیونکہ اس کے ذریعے وائرس کے بدلتے ہوئے جینیاتی کوڈ کو تیزی سے ڈھالنا ممکن ہے۔ 50 سال سے زائد عمر کے افراد، جن کا مدافعتی نظام قدرتی طور پر کمزور ہو جاتا ہے، ان کے لیے فلو کی پیچیدگیاں جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس نئی ویکسین کے ذریعے ان افراد میں قوت مدافعت کو بہتر بنانے اور انفلوئنزا کے حملوں کی شدت کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ موڈرنا کا کہنا ہے کہ یہ ویکسین ان کی مسلسل تحقیق اور ٹیکنالوجی کی جدت کا منہ بولتا ثبوت ہے جو مستقبل میں مزید بیماریوں کے علاج کی راہ ہموار کرے گی۔
اس منظوری کے بعد امریکی ہیلتھ کیئر سسٹم میں فلو سے نمٹنے کے لیے ایک نئی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ آنے والے سیزن میں یہ ویکسین دستیاب ہوگی، جس سے ہسپتالوں پر مریضوں کا دباؤ کم ہونے کی توقع ہے۔ اگرچہ یہ منظوری فی الحال صرف 50 سال سے زائد عمر کے افراد تک محدود ہے، لیکن طبی محققین پرامید ہیں کہ مستقبل قریب میں اس ٹیکنالوجی کو دیگر عمر کے گروہوں کے لیے بھی محفوظ اور مؤثر ثابت کیا جا سکے گا۔ یہ پیشرفت نہ صرف ویکسینیشن کے عمل کو تیز کرے گی بلکہ عوامی صحت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی اہمیت کو بھی اجاگر کرے گی۔