Science
گلیفوسیٹ کا شہد کی مکھیوں پر منفی اثرات: ورجینیا ٹیک کی تحقیق
ورجینیا ٹیک کی ایک نئی تحقیق کے مطابق زرعی کیمیکل گلیفوسیٹ کا سامنا کرنے والی شہد کی مکھیاں خوراک تلاش کرنے میں 13 فیصد تک سست روی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ یہ کیمیکل مکھیوں کے دماغی کیمیائی نظام میں تبدیلی کا باعث بھی بنتا ہے جس سے ان کا رویہ متاثر ہوتا ہے۔
ورجینیا ٹیک کی جانب سے 6 اگست 2026 کو شائع ہونے والی ایک اہم سائنسی تحقیق نے دنیا بھر میں استعمال ہونے والے زرعی کیمیکل 'گلیفوسیٹ' کے بارے میں تشویشناک انکشافات کیے ہیں۔ جرنل آف ایکسپیریمنٹل بائیولوجی میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق، محققین نے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ شہد کی مکھیاں جب اس کیمیکل کے اثر میں آتی ہیں، تو ان کی خوراک تلاش کرنے کی صلاحیت میں نمایاں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، گلیفوسیٹ کے تین دن تک مسلسل اثر میں رہنے کے بعد مکھیوں کی خوراک اکٹھا کرنے کی کارکردگی میں 13 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے، جو کہ چھتے کی مجموعی نشوونما اور بقا کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ ہے۔
اس تحقیق کا سب سے اہم پہلو مکھیوں کے دماغی نظام پر گلیفوسیٹ کے اثرات کا جائزہ لینا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کیمیکل نے مکھیوں کے دماغ میں ان نیورو کیمیکلز (دماغی کیمیائی مادوں) کو تبدیل کر دیا ہے جو ان کے رویوں اور نقل و حرکت کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں مکھیوں کی اکتسابی صلاحیت اور ان کی سماجی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ یہ پہلی بار ہے کہ اتنی وضاحت کے ساتھ یہ ثابت کیا گیا ہے کہ زرعی کیمیکل صرف مکھیوں کی جسمانی صحت ہی نہیں بلکہ ان کے اعصابی نظام کو بھی شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔
ماہرین حیاتیات کا ماننا ہے کہ اگر زرعی مقاصد کے لیے گلیفوسیٹ کا بے دریغ استعمال جاری رہا، تو دنیا بھر میں شہد کی مکھیوں کی آبادی میں مزید تیزی سے کمی آئے گی۔ چونکہ شہد کی مکھیاں ہماری زرعی پیداوار اور پولینیشن کے عمل میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، اس لیے ان کی دماغی کارکردگی میں کمی کا مطلب خوراک کے عالمی نظام میں خلل پیدا ہونا ہے۔ اس تحقیق کے بعد اب ماحولیاتی تحفظ کے ماہرین اور زرعی تنظیموں کی جانب سے گلیفوسیٹ کے متبادل اور محدود استعمال کے لیے نئے ضوابط وضع کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
آخر میں، ورجینیا ٹیک کے محققین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ گلیفوسیٹ کے ان طویل مدتی اثرات کو سمجھنا بہت ضروری ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ یہ کیمیکل ماحول میں کس طرح تحلیل ہوتا ہے اور اس کے باقیات کس حد تک مکھیوں کے قدرتی طرز زندگی کو تبدیل کر رہے ہیں۔ یہ تحقیق آنے والے وقتوں میں زراعت اور ماحولیاتی پالیسیوں کی تشکیل میں ایک اہم حوالہ ثابت ہوگی، کیونکہ اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ کیمیکل کا معمولی سا اثر بھی پوری ایکو سسٹم کے توازن کو بگاڑ سکتا ہے۔