LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت سے تخلیق کردہ نئے وائرس: سائنس کی دنیا میں بڑا انقلاب

News Image
محققین نے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے پہلی بار ایسے منفرد وائرس تیار کیے ہیں جو قدرتی طور پر زمین پر موجود نہیں ہیں۔ یہ اے آئی ڈیزائن کردہ بیکٹیریو فیجز کامیابی کے ساتھ ای کولائی بیکٹیریا کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
سائنس کی دنیا میں ایک اور حیران کن پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں محققین نے پہلی بار مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال کرتے ہوئے ایسے وائرس ڈیزائن کیے ہیں جو قدرت میں کہیں بھی موجود نہیں ہیں۔ یہ تحقیق سنتھیٹک بائیولوجی کے شعبے میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے جس سے مستقبل میں بیماریوں کے علاج کے نئے طریقے تلاش کیے جا سکیں گے۔ ان وائرسوں کو خاص طور پر بیکٹیریا کو ہدف بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے، اور لیبارٹری تجربات کے دوران یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ یہ مصنوعی وائرس نہایت مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔ اس تجربے کے دوران سائنسدانوں نے مصنوعی ذہانت کے جدید ماڈلز کا سہارا لیا تاکہ ان وائرسوں کی جینیاتی ساخت کو تبدیل کیا جا سکے جنہیں بیکٹیریو فیجز (bacteriophages) کہا جاتا ہے۔ یہ وائرس قدرتی طور پر بیکٹیریا کو اپنا شکار بناتے ہیں، لیکن مصنوعی ذہانت کی مدد سے ان کی کارکردگی اور ہدف پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کو کئی گنا بڑھا دیا گیا ہے۔ تجربات سے معلوم ہوا کہ اے آئی سے تیار کردہ ان وائرسوں نے نہ صرف ای کولائی (E. coli) بیکٹیریا کو پہچانا بلکہ کامیابی کے ساتھ ان کی تعداد کو بھی محدود کیا اور انہیں مکمل طور پر ختم کر دیا۔ اس ٹیکنالوجی کے طبی فوائد انتہائی وسیع ہو سکتے ہیں۔ اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف بیکٹیریا کی بڑھتی ہوئی مزاحمت ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے، اور ایسی صورتحال میں یہ اے آئی ڈیزائن کردہ وائرس ایک بہترین متبادل فراہم کر سکتے ہیں۔ محققین کا ماننا ہے کہ اس طریقہ کار سے ہم مستقبل میں ایسی ادویات تیار کر سکیں گے جو انتہائی مہلک بیکٹیریل انفیکشنز کا بھی سیکنڈوں میں خاتمہ کرنے کی صلاحیت رکھیں گی۔ اس پیش رفت نے ثابت کر دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت نہ صرف سافٹ ویئر اور روبوٹکس کے شعبوں میں بلکہ بائیولوجیکل تحقیق میں بھی انسانی سوچ سے زیادہ تیزی سے نتائج دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگرچہ یہ پیش رفت سائنسی لحاظ سے بہت بڑی کامیابی ہے، لیکن ماہرین نے اس کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور حفاظتی پہلوؤں پر بھی غور کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اس طرح کی ٹیکنالوجی کو ذمہ داری سے استعمال کرنا ضروری ہے تاکہ یہ انسانیت کی فلاح کے لیے کام کر سکے۔ مستقبل قریب میں اس ٹیکنالوجی کو طبی تجربات کے لیے وسیع پیمانے پر ٹیسٹ کیا جائے گا تاکہ اس کے انسانی صحت پر ممکنہ اثرات اور افادیت کو مزید واضح کیا جا سکے۔