Technology
سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ میں ناکامی اور ری ورک کے چیلنجز
سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ میں ری ورک پر 30 سے 50 فیصد تک محنت اور وسائل ضائع ہو جاتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ کسی بھی گیم یا پروجیکٹ کی ناکامی کا سبب فنکاروں کی سستی نہیں بلکہ ناقص مینجمنٹ ہے۔
جدید ٹیکنالوجی اور سافٹ ویئر انڈسٹری میں کامیابی کے لیے منصوبہ بندی ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ حالیہ تجزیوں اور انڈسٹری ڈیٹا سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کسی بھی سافٹ ویئر پروجیکٹ، بالخصوص ویڈیو گیمز کی تیاری کے دوران ہونے والی ناکامیوں کا ذمہ دار اکثر فنکاروں یا گرافک ڈیزائنرز کی سست روی کو ٹھہرایا جاتا ہے، تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے عمل میں 30 سے 50 فیصد تک محنت صرف 'ری ورک' یعنی کام کو دوبارہ کرنے میں ضائع ہو جاتی ہے۔ یہ ری ورک نہ صرف وقت کا ضیاع ہے بلکہ یہ پہلی بار کیے گئے کام کی نسبت ڈھائی گنا زیادہ مہنگا ثابت ہوتا ہے۔
اس صورتحال کی بنیادی وجہ اکثر ناقص منصوبہ بندی اور پروجیکٹ مینجمنٹ کے غیر مستحکم طریقے ہیں۔ جب پروجیکٹ کے آغاز میں اہداف کا تعین درست نہیں ہوتا یا بار بار تبدیلیاں کی جاتی ہیں، تو ڈویلپرز اور آرٹسٹس کو ایک ہی کام کئی بار کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر 'سکول اینڈ بونز' (Skull and Bones) جیسی بڑی گیمز، جن پر آٹھ سال سے زائد کا عرصہ اور کروڑوں ڈالر خرچ ہوئے، اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ اگر مینجمنٹ کی سمت درست نہ ہو تو کتنی ہی بڑی ٹیم کیوں نہ ہو، کامیابی حاصل کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ فنکار اپنی صلاحیتوں کے مطابق کام کر رہے ہوتے ہیں، لیکن جب مینجمنٹ بار بار سمت بدلتی ہے، تو مجموعی پیداواری صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سافٹ ویئر انڈسٹری کو اب 'تیزی' کے بجائے 'بہتری' پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر ری ورک کے اس تناسب کو کم کر لیا جائے تو نہ صرف منصوبے وقت پر مکمل ہو سکیں گے بلکہ اخراجات میں بھی خاطر خواہ کمی لائی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ڈویلپمنٹ کے ابتدائی مراحل میں ہی ٹھوس بنیادیں رکھی جائیں اور غیر ضروری تبدیلیوں سے گریز کیا جائے۔ ناکامی کی ذمہ داری آرٹسٹوں پر ڈالنے کے بجائے انتظامیہ کو اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنی ہوگی تاکہ تخلیقی صلاحیتوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔