Business
تیل کی قیمتوں میں اضافہ، ایران اومان معاہدہ زیر بحث
آئل مارکیٹ میں آبنائے ہرمز کو کھولنے سے متعلق ممکنہ معاہدے کے منتظر رہنے پر تیل کی قیمتوں میں تیزی ریکارڈ کی گئی۔ ایران کا کہنا ہے کہ اومان کے ساتھ ہرمز کے فریم ورک پر اتفاق ہو چکا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں جمعہ کے روز اس وقت اضافہ ریکارڈ کیا گیا جب سرمایہ کار اور تاجر ایران اور اومان کے درمیان آبنائے ہرمز کے معاملے پر کسی ممکنہ معاہدے کے منتظر ہیں۔ اس پیشرفت سے توانائی کی عالمی سپلائی لائنز پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس نے مارکیٹ کے شرکاء کو محتاط لیکن امید مند رکھا ہوا ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اومان کے ساتھ ہرمز کے فریم ورک پر اصولی اتفاق ہو گیا ہے، جو کہ خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو بحال کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی تیل کی ترسیل کے لحاظ سے انتہائی حساس اور اہم ترین گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں کسی بھی قسم کی پیشرفت یا کشیدگی براہ راست عالمی منڈی میں تیل کے نرخوں کو متاثر کرتی ہے۔ اس تمام صورتحال کے دوران، امریکی قیادت کی طرف سے بھی بیانات سامنے آئے ہیں جن میں امریکی اسلحے کے ذخائر سے متعلق رپورٹس پر ردعمل ظاہر کیا گیا ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ کے پاس اب بھی گولہ بارود کے وسیع اور وافر ذخائر موجود ہیں، جس کا مقصد ممکنہ دفاعی خدات کو زائل کرنا ہے۔ دوسری جانب، تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر ایران اور اومان کا یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو اس سے خلیجی خطے میں کشیدگی میں کمی آسکتی ہے اور امریکہ کی خطے میں موجودگی کے حوالے سے بھی نئے مباحث جنم لے سکتے ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی تجارت کرنے والے ادارے اور سرمایہ کار اس پورے منظر نامے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ آئندہ چند دنوں میں اس معاہدے کے حتمی اثرات تیل کی سپلائی اور قیمتوں کی سمت کا تعین کریں گے۔