Environment
جنگلاتی آگ اور خطرناک بادل: پائریکومولونیمبس کی تباہ کاریاں
شدید نوعیت کے جنگلاتی حریق بعض اوقات ایسے خطرناک بادلوں کو جنم دیتے ہیں جنہیں ناسا نے آگ اگلنے والے اژدھا بادل قرار دیا ہے۔ یہ آتشیں طوفان زمین پر موجود آگ کی شدت کو مزید بڑھا دیتے ہیں اور ان پر قابو پانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
دنیا بھر میں جنگلات میں لگنے والی آگ کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، لیکن کچھ مخصوص اور شدید نوعیت کی آگ ایسی ہوتی ہے جو اپنے ارد گرد کے موسمی حالات کو یکسر تبدیل کر دیتی ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں آسمان پر انتہائی خطرناک اور بلند و بالا بادل بنتے ہیں جنہیں سائنسی اصطلاح میں پائریکومولونیمبس کہا جاتا ہے۔ امریکی خلائی ادارے ناسا نے ان خوفناک بادلوں کو 'آگ اگلنے والے اژدھا بادل' کا نام دیا ہے جو کہ ماحول کے لیے تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔ جب جنگل کی آگ بے قابو ہو جاتی ہے تو اس کی شدید حرارت زمین کی ہوا کو تیزی سے گرم کرتی ہے اور اسے اوپر کی طرف دھکیلتی ہے۔ اس گرم ہوا کے ساتھ دھوئیں، راکھ اور آتش گیر مادے کے ذرات بھی فضا میں بلند ہوتے ہیں، جو بعد میں گھنے بادلوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ بادل نہ صرف خود موسم کو شدید بنا دیتے ہیں بلکہ ان کے اندر خطرناک قسم کی بجلی چمکتی ہے اور طوفانی ہوائیں چلتی ہیں۔ فضا میں موجود یہ طوفانی بادل آگ کو بجھانے کے برعکس الٹا مزید نقصان کا سبب بنتے ہیں۔ ان بادلوں سے گرنے والی آسمانی بجلی اور تیز ہوائیں جنگل کے نئے حصوں میں آگ بھڑکا دیتی ہیں، جس سے آگ کا دائرہ کار مزید وسیع ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ بادل آگ کے دھوئیں اور زہریلی گیسوں کو فضا کی بلندیوں تک پہنچا دیتے ہیں جس سے فضائی آلودگی میں بھی زبردست اضافہ ہوتا ہے۔ ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ گلوبل وارمنگ اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے ایسے آتشیں طوفانوں کے بننے کے واقعات میں تیزی آ رہی ہے۔ فائر فائٹرز اور ریسکیو ٹیموں کے لیے ایسے حالات میں کام کرنا انتہائی خطرناک اور جان جوکھوں کا کام بن جاتا ہے کیونکہ یہ بادل آگ کے رویے کی پیشگوئی ناممکن بنا دیتے ہیں۔ اس نئی سائنسی دریافت کے بعد ماہرین جنگلاتی آگ سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملی تیار کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ ان خطرناک طوفانی اثرات کو کم کیا جا سکے اور انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔