LIVE
Loading Breaking News...

روم میں عمارت خالی کرانے کا تنازع، سیکڑوں افراد سڑک پر مقیم

News Image
اٹلی کے دارالحکومت روم میں ایک عمارت میں آگ لگنے کے بعد اسے خالی کرائے جانے پر شدید کشیدگی پھیل گئی ہے، جہاں سیکڑوں افراد شدید گرمی میں سڑکوں پر خیمے لگا کر بیٹھ گئے ہیں۔ کارکنوں کا دعویٰ ہے کہ عمارت کو خالی کرانے کا یہ قدم سیاسی مقاصد کے تحت اٹھایا گیا تھا۔
اٹلی کے تاریخی دارالحکومت روم میں صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب ایک متنازعہ عمارت میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ واقعے کے فوراً بعد انتظامیہ نے سکیورٹی خدشات اور حفاظتی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے عمارت کو مکمل طور پر خالی کرالیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں وہاں مقیم سیکڑوں افراد بے گھر ہو گئے ہیں اور وہ شدید گرمی کے عالم میں روم کی سڑکوں پر کھلے آسمان تلے خیمہ زن ہونے پر مجبور ہیں۔ متاثرہ افراد اور سماجی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد اس فیصلے کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ احتجاج کرنے والے کارکنوں اور رہائشیوں کا مؤقف ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے عمارت کو خالی کرانے کا یہ فیصلہ انتہائی اچانک اور غیر منصفانہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے پیچھے سیاسی محرکات کارفرما ہیں، جن کا مقصد غریب اور بے سہارا افراد کو ان کے سر سے چھت محروم کرنا ہے۔ مظاہرین کے مطابق، حکام نے متبادل رہائش فراہم کیے بغیر لوگوں کو زبردستی باہر نکالا، جس سے ان کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ اس گرمی کی لہر میں سڑکوں پر زندگی گزارنا مکینوں کے لیے ایک بڑا انسانی بحران بنتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، مقامی حکام اور پولیس کا کہنا ہے کہ عمارت میں لگنے والی آگ نے حفاظتی اصولوں کی سنگین خلاف ورزیوں کو بے نقاب کر دیا تھا، اس لیے وہاں رہنا کسی بھی وقت مزید بڑے جانی نقصان کا باعث بن سکتا تھا۔ انتظامیہ کا اصرار ہے کہ یہ اقدام مکمل طور پر شہریوں کے تحفظ کے پیش نظر اٹھایا گیا تھا۔ اس کے باوجود، سول سوسائਟੀ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر بے گھر ہونے والے افراد کے لیے خیموں، خوراک اور مستقل متبادل رہائش کا بندوبست کرے تاکہ اس انسانی المیے کو روکا جا سکے۔