LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کی تھیٹر ڈپللومیسی اور عالمی سیاست کا نیا منظر نامہ

News Image
ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارتی پالیسی کو 'تھیٹر ڈپللومیسی' قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ عالمی منڈیوں اور سیاسی حلقوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اس انوکھی حکمت عملی کے اثرات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
عالمی سیاسی منظر نامے میں ایک بار پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارتی حکمت عملی بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ حال ہی میں ایران کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے طرزِ عمل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے 'تھیٹر ڈپللومیسی' کا نام دیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے اختیار کیے جانے والے طریق کار میں حقیقی سفارت کاری کی بجائے نمائش اور سیاسی ڈرامے بازی کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر امریکہ اور ایران کے تعلقات میں تناؤ بدستور برقرار ہے اور مختلف علاقائی امور پر کشیدگی پائی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ اندازِ حکمرانی اور سفارت کاری روایتی طریقوں سے بالکل مختلف ہے، جس کی وجہ سے اتحادیوں اور حریفوں دونوں کے لیے پیش گوئی کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ دوسری جانب، عالمی منڈیوں اور معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے سیاسی بیانات اور سفارتی کشمکش کا براہ راست اثر عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔ سرمایہ کار کسی بھی ممکنہ بحران سے بچنے کے لیے بین الاقوامی خبروں اور سیاسی پیش رفت پر نہایت باریک بینی سے نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ 'تھیٹر ڈپللومیسی' جہاں ایک طرف ان کے حامیوں کے نزدیک ایک جرات مندانہ سیاسی حربہ ہے، وہیں دوسری طرف ناقدین اسے عالمی استحکام کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ لفظی جنگ کسی بڑے سفارتی بحران کی شکل اختیار کرتی ہے یا دونوں فریقین کسی اعتدال کی راہ اپناتے ہیں۔ عالمی طاقتیں خطے میں امن اور استحکام کے لیے کشیدگی کو کم کرنے پر زور دے رہی ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا सके۔