LIVE
Loading Breaking News...

ڈی ایکسٹنشن: ناپید جانوروں کی واپسی کی سائنسی کوششیں

News Image
سائنسدانوں کی جانب سے ناپید ہو جانے والی انواع کو واپس لانے کے لیے ڈی ایکسٹنشن پر سنجیدہ کام جاری ہے۔ اس عمل کی عملیت اور اخلاقی اثرات پر سائنسی حلقوں میں بحث مباحثہ ہو رہا ہے۔
کیا دنیا سے ہمیشہ کے لیے ختم ہو جانے والے جانوروں کو واپس لایا جا سکتا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو آج کل سائنسی دنیا میں انتہائی مقبول اور زیر بحث ہے۔ سائنسدانوں کی ایک بڑی ٹیم اس وقت 'ڈی ایکسٹنشن' (De-Extinction) کے عمل پر کام کر رہی ہے، جس کا بنیادی مقصد ان تمام جانداروں کو دوبارہ اس دنیا میں لانا ہے جو انسانی مداخلت یا قدرتی آفات کی وجہ سے ناپید ہو چکے ہیں۔ جینیاتی انجینئرنگ اور ڈی این اے ٹیکنالوجی میں ہونے والی حیرت انگیز ترقی نے محققین کو اس بات کی امید دلائی ہے کہ ناممکن نظر آنے والا یہ خواب اب حقیقت بن سکتا ہے۔ اس عمل کے دوران سائنسدان ناپید جانوروں کے باقیات سے ان کا جینیاتی مواد (DNA) حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے بعد اس ڈی این اے کو جدید جینیاتی طریقوں سے موجودہ دور کے ان کے قریبی رشتہ دار جانوروں کے جینوم کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ اگرچہ نظریہ کے طور پر یہ عمل بہت دلکش دکھائی دیتا ہے، لیکن عملی میدان میں اس کے نفاذ کے دوران لاتعداد چیکاٹھوں اور رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ تمام تر سائنسی ترقی کے باوجود، کسی بھی معدوم جاندار کی مکمل حیاتیاتی نقل تیار کرنا اور اسے ایک صحت مند ماحول فراہم کرنا انتہائی پیچیدہ مرحلہ ہے۔ اس سائنسی پیش رفت کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی اور اخلاقی نوعیت کے سنگین سوالات بھی اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ واپس لائے جانے والے جانور آج کے بدلے ہوئے ماحول میں خود کو ڈھال سکیں گے۔ اس کے علاوہ، اربوں ڈالر کی لاگت سے چلنے والے ان پراجیکٹس پر یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے کہ یہ وسائل موجودہ خطرے سے دوچار زندہ نسلوں کو بچانے کے لیے استعمال کیے جانے چاہئیں۔ اس کے باوجود، ڈی ایکسٹنشن پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کا عزم ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور گم شدہ ماحولیاتی توازن کو بحال کرنے میں ایک انقلابی قدم ثابت ہو سکتی ہے۔