Health
بچوں کی حفاظتی تربیت: گھر کا پتہ جاننا کیوں ضروری ہے
نارتھ ویسٹ فائر ڈسٹرکٹ کی فائر سیفٹی ایجوکیٹر ایمی ایلن نے انکشاف کیا ہے کہ بعض چوتھی جماعت کے بچے بھی اپنے گھر کا مکمل پتہ نہیں جانتے۔ یہ حیرت انگیز انکشاف بچوں کی حفاظتی تربیت کے حوالے سے والدین اور اساتذہ کے لیے ایک اہم لمحہ فکریہ ہے۔
فائر سیفٹی اور زندگی کی حفاظت کے شعبے میں طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والی نارتھ ویسٹ فائر ڈسٹرکٹ (این ایف ڈی) کی ایجوکیٹر ایمی ایلن کو حال ہی میں ایک ایسا انکشاف ہوا جس نے سب کو حیران کر دیا۔ ان کے مطابق، بعض بچے جو کہ چوتھی جماعت یا اس سے بھی بڑی عمر کے ہیں، انہیں اپنے گھر کا مکمل پتہ معلوم نہیں ہوتا۔ ہنگامی حالات میں جب فوری مدد کی ضرورت ہوتی ہے، تو یہ بنیادی معلومات نہ ہونا ایک بہت بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ ایمی ایلن کا یہ مشاہدہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بچوں کی بنیادی تعلیم میں حفاظتی اور معلوماتی پہلوؤں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ایمرجنسی سروسز، جیسے کہ فائر بریگیڈ، ریسکیو یا پولیس کو کال کرتے وقت درست مقام کی فراہمی سب سے پہلا قدم ہوتا ہے۔ اگر ایک بچہ مصیبت میں پھنس جائے اور وہ آپریٹر کو یہ نہ بتا سکے کہ وہ کہاں موجود ہے، تو امدادی ٹیموں کا وقت ضائع ہوتا ہے اور قیمتی جانیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ کم عمر ہی سے بچوں کو ان کا گھر کا مکمل پتہ، اہم گلی محلے کے نام اور کم از کم ایک رابطہ نمبر زبانی یاد کروائیں۔ گھر کے اندر حفاظتی مشقیں کرنا اور بچوں کو ایمرجنسی نمبرز سے آگاہ کرنا بھی اس سلسلے کی کڑی ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ گھریلو اور ذاتی حفاظتی معلومات کی فراہمی بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ تعلیمی نصاب کی تکمیل۔