World
اسرائیل کا محدود غزہ فورس کی منظوری کا فیصلہ، ماہرین کی آراء
مبصرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی کابینہ کا حالیہ فیصلہ دراصل امریکی دباؤ کو کم کرنے اور غزہ کی پٹی کو تقسیم کرنے کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ اس اقدام کا مقصد خطے میں جاری کشمکش کے دوران سیاسی اور عسکری اہداف کو حاصل کرنا ہے۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں ایک محدود فورس کی منظوری کے فیصلے کو ایک گہری اور سوچی سمجھی چال قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی کابینہ کا یہ اقدام کسی اچانک پیش رفت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد بین الاقوامی سطح پر بالخصوص امریکہ کی طرف سے پڑنے والے دباؤ کو کم کرنا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے، اس قسم کے اقدامات کا مقصد صرف وقت کا ضیاع اور عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ہے۔ مزید برآں، ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس فیصلے کے پس منظر میں غزہ کی پٹی کو مزید حصوں میں تقسیم کرنے اور اس کے انتظامی ڈھانچے کو کمزور کرنے کے عزائم پوشیدہ ہیں۔ اس تقسیم سے زمینی حقائق کو اسرائیل کے حق میں تبدیل کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جس سے مستقبل کے سیاسی اور عسکری مذاکرات پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ اس صورتحال نے خطے میں امن کی امیدوں کو مزید مدھم کر دیا ہے اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عالمی رہنماؤں کو اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی بڑی انسانی المیے کو روکا جا سکے اور خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار کی جا سکے، بصورت دیگر اس طرح کے یکطرفہ فیصلے تنازع کو مزید طول دینے کا باعث بنیں گے۔