LIVE
Loading Breaking News...

چرنوبل سانحے کے متاثرہ انتون ہونکانکا کا ویلش فیملی سے تشکر کا اظہار

News Image
سال 1986 کے چرنوبل نیوکلیئر حادثے سے متاثر ہونے والے انتون ہونکانکا نے برطانیہ میں پناہ دینے والے خاندان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ وہ ان ہزاروں افراد میں شامل تھے جنہیں حادثے کے بعد برطانیہ لایا گیا تھا۔
سال 1986 میں پیش آنے والے تاریخی چرنوبل نیوکلیئر حادثے کے ایک متاثرہ شخص انتون ہونکانکا نے اس ویلش خاندان کے لیے گہرے جذباتِ تشکر کا اظہار کیا ہے جنہوں نے اس خوفناک سانحے کے بعد انہیں اپنے گھر میں پناہ دی تھی۔ انتون ہونکانکا ان ہزاروں افراد میں شامل تھے جو اس تباہ کن ایٹمی حادثے کے براہِ راست اثرات کی زد میں آئے تھے اور اپنی جان بچانے کے لیے نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے۔ اس وقت کے حالات انتہائی گھمبیر تھے اور متاثرہ افراد کو دنیا بھر سے امداد اور ہمدردی کی ضرورت تھی۔ برطانیہ آنے کے بعد، انتون کو ایک ایسے ویلش خاندان کا ساتھ ملا جنہوں نے نہ صرف ان کی بحالی میں مدد کی بلکہ انہیں اپنے سگے بیٹے کی طرح اپنایا۔ اتنے سال گزر جانے کے باوجود، انتون ہونکانکا اس خاندان کی خدمات اور محبت کو نہیں بھولے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ زندگی بھر اس ویلش خاندان کے شکر گزار رہیں گے جنہوں نے ایک غیر ملکی اور مصیبت زدہ بچے کو اپنے خاندان کا حصہ بنایا اور اسے ایک محفوظ ماحول فراہم کیا۔ چرنوبل کا یہ سانحہ انسانی تاریخ کے بدترین ایٹمی حادثات میں شمار ہوتا ہے، جس کے اثرات نے نسلوں کو متاثر کیا۔ اس حادثے کے نتیجے میں ریڈی ایشن کے خطرات کے پیشِ نظر ہزاروں بچوں کو یورپ کے مختلف حصوں میں عارضی اور مستقل بنیادوں پر منتقل کیا گیا تھا۔ برطانیہ میں اس نوعیت کے فلاحی اقدامات نے بہت سی زندگیاں بچانے میں اہم کردار ادا کیا، اور انتون کی کہانی اسی انسانی ہمدردی اور باہمی محبت کی ایک روشن مثال ہے۔ موجودہ دور میں جب دنیا کو مختلف نوعیت کے بحرانوں کا سامنا ہے، اس طرح کے واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ انسانیت اور محبت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ انتون ہونکانکا کی یہ داستان اس بات کا ثبوت ہے کہ مشکل وقت میں دیا گیا ایک کا سہارا اور خلوص انسان کو ہمیشہ یاد رہتا ہے۔ ان کا یہ بیان دونوں خطوں کے درمیان دوستی اور محبت کے رشتے کو مزید مضبوط کرتا ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔