World
یوکرین کے صدر زیلنسکی کا روس کے اتحادی سربیا کا دورہ
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس کے روایتی اتحادی ملک سربیا کا غیر متوقع دورہ کیا ہے۔ اس دورے کا مقصد دوطرفہ تعلقات اور خطے کی صورتحال پر بات چیت کرنا ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے سفارتی محاذ پر ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے روس کے روایتی اتحادی ملک سربیا کا دورہ کیا ہے۔ یہ دورہ اس لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل مانا جا رہا ہے کیونکہ سربیا روایتی طور پر روس کے ساتھ گہرے سیاسی اور معاشی تعلقات رکھتا ہے اور اس نے اب تک ماسکو کے خلاف مغرب کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کی مکمل حمایت نہیں کی ہے۔ اس دورے کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ تعلقات، علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق صدر زیلنسکی کی جانب سے سربیا کا یہ دورہ یوکرین کی اس سفارتی کوشش کا حصہ ہے جس کے ذریعے وہ مشرقی یورپ اور بلقان کے خطے میں اپنے اتحادیوں کا دائرہ کار وسیع کرنا چاہتا ہے۔ یوکرین اور سربیا کے درمیان اعلیٰ سطح پر ہونے والی اس ملاقات میں باہمی تعاون کے فروغ کے علاوہ مختلف شعبوں میں تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے پر بھی غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کے صدور نے خطے میں امن و امان کی بحالی کے لیے جاری کوششوں کا بھی جائزہ لیا۔ سربیا کی قیادت نے یوکرین میں جاری کشیدگی اور انسانی مصائب پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بات چیت اور سفارتی ذرائع سے تنازعے کے پرامن حل پر زور دیا۔ صدر زیلنسکی کا یہ دورہ بین الاقوامی سفارت کاری میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب روس اور یوکرین کے درمیان جنگ طویل ہوتی جا رہی ہے اور یوکرین دنیا بھر سے اپنے لیے حمایت حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ اس ملاقات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کے ممالک اپنے روایتی اتحادوں سے ہٹ کر اب نئے سفارتی زاویے تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والے معاشی اور سیاسی بحرانوں سے نمٹا جا سکے۔