Technology
پرنس ہری کا بیان اور میٹا پر 567 ملین ڈالر کا جرمانہ
برطانوی شہزادے پرنس ہری نے ٹیکنالوجی کے شعبے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے حوالے سے ایک بار پھر آواز اٹھائی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معروف کمپنی میٹا کو کروڑوں ڈالر کے جرمانے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
برطانوی شاہی خاندان کے رکن پرنس ہری نے ایک بار پھر ڈیجیٹل دنیا اور سوشل میڈیا کمپنیوں کے ذمہ دارانہ رویے پر زور دیا ہے۔ ان کا یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا ہے جب فیس بک اور انسٹاگرام کی ہولڈنگ کمپنی میٹا کو دنیا بھر میں سخت قانونی چیلنجز اور بھاری مالیاتی جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق میٹا پر لگائے جانے والے جرمانے کی مالیت 567 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو کہ ڈیٹا پرائیویسی اور صارفین کے حقوق سے متعلق قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں پر عائد کی گئی ہے۔ پرنس ہری طویل عرصے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے منفی اثرات، آن لائن ہراسانی اور نوجوانوں کی ذہنی صحت پر پڑنے والے اثرات کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے بڑے اداروں کو اپنے صارفین کے تحفظ کے لیے مزید سخت اقدامات کرنے چاہئیں اور منافع کمانے کو انسانی بہبود پر ترجیح نہیں دینی چاہیے۔ دوسری جانب، میٹا کے خلاف اس کارروائی کو ڈیجیٹل انڈسٹری میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں حکومتیں اور ریگولیٹری ادارے بڑی ٹیک کمپنیوں پر لگام لگانے کے لیے تیزی سے متحرک ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بھاری جرمانوں سے نہ صرف میٹا بلکہ دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا، تاکہ صارفین کا اعتماد بحال رکھا جا سکے۔ پرنس ہری کی جانب سے اس معاملے پر تشویش کا اظہار ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب دنیا بھر میں سوشل میڈیا کی اخلاقیات اور قوانین کے حوالے سے بحث میں تیزی آ رہی ہے۔