Pakistan
چلاس سیلاب: شدید تباہی اور امدادی کارروائیوں کی تفصیلات
گلگت بلتستان کے علاقے چلاس اور گردونواح میں اچانک آنے والے سیلاب نے شدید تباہی مچائی ہے جس کے نتیجے میں مواصلاتی نظام اور املاک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ مقامی انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کرتے ہوئے ہنگامی حالات نافذ کر دیے ہیں۔
گلگت بلتستان کے اہم سیاحتی اور تجارتی مرکز چلاس اور اس کے گردونواح میں اچانک آنے والے سیلاب نے نظامِ زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، حالیہ بارشوں اور گلیشیر کے پگھلنے کے نتیجے میں آنے والے ریلوں نے متعدد علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس سے زمینی راستے بند ہو گئے اور مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سیلابی ریلے اپنے ساتھ بڑے پیمانے پر ملبہ، درخت اور پتھر لے کر آئے جن کی زد میں آ کر کئی رابطہ سڑکیں اور پل شدید متاثر ہوئے ہیں۔
مقامی انتظامیہ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ سیلاب کے باعث کئی گھروں اور دکانوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ مواصلاتی نظام درہم برہم ہونے کی وجہ سے دور دراز علاقوں سے رابطے عارضی طور پر منقطع ہو چکے ہیں۔ مسافر اور سیاح بھی مختلف مقامات پر پھنس گئے ہیں جنہیں نکالنے کے لیے ریسکیو ٹیمیں مسلسل کوشاں ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے ہنگامی بنیادوں پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں اور متاثرہ علاقوں میں ہیوی مشینری کی مدد سے سڑکوں کو ٹریفک کے لیے بحال کرنے کا کام جاری ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں خوراک، صاف پانی اور طبی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے چلاس میں سیلاب سے ہونے والے نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو فوری امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز کے دوران مزید بارشوں کا امکان ظاہر کیا ہے، جس کے پیش نظر مقامی انتظامیہ اور شہریوں کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹا جا سکے اور قیمتی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔