World
او آئی سی کا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر خیرمقدمی بیان
تنظیم تعاون اسلامی (او آئی سی) نے حالیہ منظور شدہ 'مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے' کا زبردست خیرمقدم کیا ہے۔ او آئی سی نے اس پیشرفت کو خطے کے استحکام اور مسلم امہ کے دفاعی تعاون میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔
تنظیم تعاون اسلامی (او آئی سی) نے 'مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے' کا باضابطہ طور پر خیرمقدم کیا ہے اور اسے مسلم دنیا کے سیکورٹی ڈھانچے کے لیے ایک انتہائی اہم اور بروقت قدم قرار دیا ہے۔ اسلامی ممالک کی اس نمائندہ تنظیم نے اپنے ایک حالیہ بیان میں اس امر پر زور دیا ہے کہ یہ معاہدہ خطے کے ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینے اور درپیش مشترکہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ او آئی سی کے سیکریٹری جنرل اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں نے اس بات چیت کو سراہا جس کے نتیجے میں یہ تاریخی معاہدہ طے پایا ہے۔
ماہرین کے مطابق، موجودہ عالمی اور علاقائی سیاسی منظرنامے میں مسلم ممالک کے مابین دفاعی شعبے میں اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔ 'مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے' کے تحت فریقین کے مابین انٹیلی جنس شیئرنگ، فوجی تربیت، اور عسکری سازوسامان کے تبادلے میں اضافہ متوقع ہے، جس سے کسی بھی بیرونی خطرے کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے میں مدد ملے گی۔ او آئی سی نے امید ظاہر کی ہے کہ اس معاہدے سے نہ صرف رکن ممالک کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ خطے میں پائیدار امن اور خوشحالی کی راہ بھی ہموار ہوگی۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے کو مختلف قسم کے جغرافیائی سیاسی تنازعات اور سلامتی کے خطرات کا سامنا ہے۔ اس پس منظر میں او آئی سی کی جانب سے اس کی توثیق اس بات کا غماز ہے کہ اسلامی دنیا اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے یکجا ہونے کا پختہ ارادہ رکھتی ہے۔ تنظیم نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنائیں تاکہ خطے کے عوام کو ایک پرامن اور محفوظ مستقبل فراہم کیا جا سکے۔
او آئی سی نے اپنے بیان کے آخر میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مسلم امہ کے اتحاد، ترقی اور سلامتی کے لیے ہر ممکن پلیٹ فارم مہیا کرتی رہے گی اور ایسے تمام اقدامات کی حمایت کرے گی جو باہمی اعتماد کو بڑھانے کا باعث بنیں۔ امید کی جارہی ہے کہ اس معاہدے کے نفاذ کے بعد آنے والے دنوں میں علاقائی تعاون کے نئے دروازے کھلیں گے اور دیگر شعبوں میں بھی مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے میں مدد ملے گی۔