Business
ویتنام کی ایف ڈی آئی کامیابی اور مستقبل کی حکمت عملی
ویتنام نے سال 2026 کے پہلے نصف میں 34.65 ارب ڈالر کی ریکارڈ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) حاصل کی ہے۔ ملک اب صرف نوکریوں کے بجائے افرادی قوت کی مہارت اور پائیدار ترقی پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔
ویتنام کی معیشت نے ایک بار پھر عالمی سطح پر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غیر ملکی سرمایہ کاری کے تمام پرانے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، ویتنام نے سال 2026 کے پہلے نصف حصے کے دوران تقریباً 34.65 ارب ڈالر کی رجسٹرڈ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری یعنی ایف ڈی آئی حاصل کی ہے۔ یہ اعداد و شمار گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں حیرت انگیز طور پر 61 فیصد زیادہ ہیں، جو کہ ویتنامی مارکیٹ پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کے پختہ اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اس کے علاوہ، اس دوران حقیقی یا ریلائزڈ ایف ڈی آئی بھی 13.03 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو ملکی معیشت کی مضبوطی ظاہر کرتی ہے۔
اس شاندار مالیاتی کامیابی کے بعد، ویتنامی پالیسی ساز اب اپنی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی لا رہے ہیں۔ ماضی میں توجہ کا محور محض روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور سستی افرادی قوت کی فراہمی تھا، لیکن اب 'نوکریوں سے مہارت' کی طرف منتقلی پر زور دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ویتنام اب صرف روایتی مینوفیکچرنگ تک محدود نہیں رہنا چاہتا بلکہ وہ ہائی ٹیک انڈسٹریز، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔ اس مقصد کے لیے مقامی لیبر فورس کو جدید تکنیکی مہارتوں سے لیس کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے تاکہ ملک طویل المدتی اور پائیدار معاشی ترقی کی شاہراہ پر گامزن رہ سکے۔
اس معاشی معجزے کے پیچھے مستحکم حکومتی پالیسیاں، سازگار کاروباری ماحول اور بین الاقوامی تجارت کے معاہدے ہیں۔ ویتنام نے خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے طریقہ کار کو کافی حد تک آسان بنایا ہے، جس کی وجہ سے دنیا بھر کی بڑی کمپنیاں اپنی فیکٹریاں اور پیدائشی مراکز ویتنام منتقل کر رہی ہیں۔ تاہم، اس تیز رفتار ترقی کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی جنم لے رہے ہیں، جن میں ہنر مند لیبر کی قلت اور انفراسٹرکچر پر بڑھتا ہوا دباؤ شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اور تعلیمی ادارے اب مل کر ایسی تربیتی اسکیمیں متعارف کرا رہے ہیں جو طلباء اور کارکنان کو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق تیار کریں۔
مجموعی طور پر، ویتنام کی یہ معاشی پیش رفت ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک بہترین مثال ہے۔ اگر ویتنام اپنی موجودہ ترقیاتی رفتار کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور مہارت کے اس نئے دور میں بھی کامیابی حاصل کرتا ہے، تو آنے والے برسوں میں وہ ایشیا کے سب سے بڑے اقتصادی مراکز میں سر فہرست شمار ہوگا۔ سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی یہ دلچسپی نہ صرف ملکی جی ڈی پی میں اضافے کا باعث بن رہی ہے بلکہ عام شہریوں کے معیار زندگی کو بھی بہتر بنا رہی ہے۔