LIVE
Loading Breaking News...

چین کی جانب سے امریکی کمپنی پالو آلٹو نیٹ ورکس کا سیکیورٹی جائزہ

News Image
چین کے سائبر اسپیس نگران ادارے نے امریکی سائبر سیکیورٹی کمپنی پالو آلٹو نیٹ ورکس کی مصنوعات کی جانچ پڑتال شروع کر دی ہے۔ یہ قدم دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی اور تکنیکی کشیدگی کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔
بیجنگ: امریکہ کے ساتھ تجارتی اور تکنیکی محاذ پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران چین کے سائبر اسپیس نگران ادارے نے امریکی سائبر سیکیورٹی کمپنی پالو آلٹو نیٹ ورکس کی مصنوعات کا باضابطہ جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ چینی حکام کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام ملک کی قومی سلامتی اور اہم ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ اس پیش رفت کو دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان ٹیکنالوجی کے شعبے میں جاری چپقلش کا ایک نیا باب قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پالو آلٹو نیٹ ورکس جو کہ دنیا بھر میں معروف سیکیورٹی سلوز فراہم کرتی ہے، کو اب چینی مارکیٹ میں سخت ترین ضابطہ کار اور ریگولیٹری چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس جانچ پڑتال کا دائرہ کار کمپنی کے نیٹ ورک سیکیورٹی پروڈکٹس اور ان سے وابستہ خدمات تک پھیلا ہوا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا یہ مصنوعات چینی صارفین کے ڈیٹا یا قومی مفادات کے لیے کسی قسم کا خطرہ تو پیدا نہیں کر رہیں۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان سیمی کنڈکٹرز، مصنوعی ذہانت اور دیگر حساس ٹیکنالوجیز پر پابندیوں کا سلسلہ طویل ہوتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب تجارتی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے دونوں ممالک کی معیشتوں کے درمیان تکنیکی علیحدگی کے رجحان کو مزید تقویت ملے گی۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے چین میں کاروبار کرنا پہلے ہی مشکل ہوتا جا رہا ہے اور اس تازہ ترین تحقیقات کے بعد امریکی ٹیکنالوجی فرمز کے لیے چین میں اپنے قدم جمانا مزید کٹھن ہو جائے گا۔ پالو آلٹو نیٹ ورکس کی جانب سے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی بڑا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم مارکیٹ کے مبصرین اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اس کے اثرات عالمی سائبر سیکیورٹی مارکیٹ اور سپلائی چین پر بھی پڑ سکتے ہیں۔