Technology
ڈی بی ایس سی ای او: اے آئی ٹوکن کے زیادہ استعمال سے لاگت میں کمی
جنوب مشرقی ایشیا کے سب سے بڑے قرض دہندہ ادارے ڈی بی ایس گروپ کے مطابق آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ٹوکنز کے زیادہ استعمال کے باوجود فی ٹوکن لاگت میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ ادارے کی اعلیٰ قیادت کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے بہتر اور مؤثر استعمال سے مالیاتی اخراجات کو قابو میں رکھا جا رہا ہے۔
جنوب مشرقی ایشیا کے سب سے بڑے بینکنگ ادارے ڈی بی ایس گروپ (DBS Group) کی چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹین سو شان نے انکشاف کیا ہے کہ اگرچہ ان کا ادارہ اب پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مصنوعی ذہانت (AI) کے ٹوکنز استعمال کر رہا ہے، لیکن اس کے باوجود فی ٹوکن لاگت میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس رجحان کو ایک دلچسپ معاشی صورتحال سے تشبیہ دی ہے جہاں ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے ساتھ اس کے فی یونٹ اخراجات کم ہو جاتے ہیں۔ ادارے کی جانب سے اے آئی کے استعمال میں یہ بہتری اس بات کا ثبوت ہے کہ مالیاتی شعبہ اب جدید ٹیکنالوجی کو اپنے روزمرہ کے امور میں زیادہ مہارت اور نفاست کے ساتھ ضم کر رہا ہے۔ بینک کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسے مؤثر طریقے تلاش کر لیے ہیں جن کی مدد سے کم لاگت میں زیادہ پیداواری صلاحیت حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت ڈی بی ایس گروپ نے کسٹمر سروسز، رسک مینجمنٹ اور دیگر مالیاتی آپریشنز میں اے آئی کے استعمال کو وسیع تر کر دیا ہے، جس سے نہ صرف بینکنگ کے روایتی طریقوں میں جدت آئی ہے بلکہ مجموعی اخراجات پر بھی قابو پانا ممکن ہو سکا ہے۔ بینکاری کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کا یہ کامیاب استعمال اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح درست منصوبہ بندی اور تکنیکی مہارت کے ذریعے جدید دور کے چیلنجز سے نمٹا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ڈی بی ایس کا یہ ماڈل خطے کے دیگر مالیاتی اداروں کے لیے بھی مشعلِ راہ ثابت ہوگا جو ڈیجیٹل تبدیلی کے اس عمل سے گزر رہے ہیں۔