Health
الٹراساؤنڈ پچ سے REM نیند میں بہتری، نئی طبی تحقیق
ایک نئی قابل استعمال الٹراساؤنڈ پچ ٹیکنالوجی نے بغیر کسی دوائی یا سرجری کے افراد کو تیزی سے REM نیند میں داخل ہونے اور وہاں زیادہ دیر رہنے میں مدد فراہم کی ہے۔ تحقیق کے دوران اس آلے کی مدد سے REM نیند تک پہنچنے کے وقت میں 43 منٹ کمی اور دورانیے میں 16 منٹ کا اضافہ دیکھا گیا۔
نقصان دہ ادویات یا پیچیدہ سرجری کے بغیر نیند کے معیار کو بہتر بنانے کی سمت میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سائنسدانوں نے ایک نیا قابل استعمال (wearable) الٹراساؤنڈ پچ تیار کیا ہے جو لوگوں کو کم وقت میں REM (ریپڈ آئی موومنٹ) نیند حاصل کرنے اور اس حالت میں زیادہ دیر تک رہنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔ یہ ایجاد ان افراد کے لیے ایک امید کی کرن ہے جو نیند کی کمی یا مختلف خلل کا شکار رہتے ہیں اور نیند کی گولیاں استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔
اس نئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے کی گئی ایک حالیہ طبی تحقیق میں اٹھائیس (28) رضاکاروں نے حصہ لیا۔ تحقیق کے نتائج انتہائی حوصلہ افزا رہے، جن کے مطابق اس ڈیوائس کے استعمال سے شرکاء کو REM نیند تک پہنچنے میں لگنے والے وقت میں اڑتالیس (43) منٹ کی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ اس کے علاوہ، اس پچ کی مدد سے مجموعی طور پر REM نیند کے دورانیے میں تقریبا سولہ (16) منٹ کا اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا، جو کہ دماغی صحت اور یادداشت کے لیے انتہائی مفید مانا جاتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ الٹراساؤنڈ پچ انتہائی مہارت کے ساتھ کام کرتا ہے اور اعصابی نظام کو پرسکون کرتے ہوئے گہری نیند کے اس مخصوص مرحلے کو متحرک کرتا ہے۔ REM نیند انسان کی دماغی صحت، یادداشت کی مضبوطی اور جذباتی توازن کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ روایتی طور پر نیند کے اس مرحلے کو بہتر بنانے کے لیے فارماسیوٹیکل ادویات کا سہارا لیا جاتا رہا ہے جن کے کئی منفی سائیڈ ایفیکٹس بھی ہوتے ہیں، تاہم یہ غیر حملہ آور (non-invasive) طریقہ کار ان خطرات سے مکمل طور پر محفوظ معلوم ہوتا ہے۔
ماہرین اب اس ٹیکنالوجی کو مزید وسیع پیمانے پر جانچنے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں اسے عام صارفین کے لیے مارکیٹ میں لایا جا سکے۔ اگر آئندہ کے ٹیسٹ بھی اتنے ہی کامیاب رہے تو یہ چھوٹا سا پچ دنیا بھر میں کروڑوں ایسے افراد کے لیے ایک نعمت ثابت ہو سکتا ہے جو نیند کے دائمی مسائل یا بے خوابی کا شکار ہیں۔ اس سے نہ صرف ادویات پر انحصار کم ہوگا بلکہ صحت مند طرز زندگی کے حصول میں بھی بڑی مدد ملے گی۔