World
غزہ اسلامی یونیورسٹی کی بحالی: طلبا اور اساتذہ کی کاوشیں
غزہ میں جاری شدید جنگ اور تباہی کے باوجود طلبا اور تدریسی عملے نے اسلامی یونیورسٹی کو دوبارہ فعال بنانے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ اس اقدام کا مقصد فلسطینی نوجوانوں کے تعلیمی تسلسل کو برقرار رکھنا اور امید کی کرن کو روشن رکھنا ہے۔
غزہ میں جاری تباہ کن جنگ اور نامساعد حالات کے باوجود، اسلامی یونیورسٹی آف غزہ کے طلبا اور عملے نے تعلیمی عمل کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے غیر معمولی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ اسرائیلی بمباری اور محاصرے کی وجہ سے یونیورسٹی کی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس سے تعلیمی ڈھانچہ تقریباً تباہ ہو چکا ہے۔ تاہم، اساتذہ اور نوجوان طلبا نے ہمت نہ ہارتے ہوئے ملبے کے ڈھیروں کے درمیان عارضی کلاس رومز قائم کرنے اور تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد فلسطینی نسل کے تعلیمی مستقبل کو محفوظ بنانا اور جنگ کے دوران بھی علم کی شمع کو فرواں رکھنا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ اور رضاکاروں کا کہنا ہے کہ وہ ہر ممکن طریقے سے تعلیمی سرگرمیوں کو بحال کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ عارضی خیموں اور ملبے کے قریب پڑھانے کا یہ عمل نہ صرف طلبا کے عزم کی عکاسی کرتا ہے بلکہ یہ فلسطینی عوام کی جرات اور استقامت کا بھی ایک روشن ثبوت ہے۔ تعلیم کے میدان میں یہ جدوجہد اس بات کا ثبوت ہے کہ تمام تر مصائب اور مشکلات کے باوجود فلسطینی قوم علم اور ترقی کے راستے سے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہے۔