LIVE
Loading Breaking News...

لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ: بینک صارفین کا ڈیٹا پراپرٹی اور اس کا غلط استعمال جرم ہے

News Image
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ بینک کے پاس موجود صارفین کا ڈیٹا قانون کے تحت ملکیت یعنی پراپرٹی کی تعریف میں آتا ہے۔ عدالت نے کیس میں ملوث بینک ملازم کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ٹیلی کام فرنچائز کے ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم قانونی فیصلے میں یہ قرار دیا ہے کہ کسی بھی بینک کے پاس امانت کے طور پر موجود صارفین کا ڈیٹا قانونی طور پر 'پراپرٹی' کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کا بے ایمانانہ غلط استعمال فوجداری اعتماد شکنی کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ یہ فیصلہ جسٹس طارق سلیم شیخ نے ملٹی ملین روپے کے سم سوآپ فراڈ کیس کی سماعت کے دوران جاری کیا، جس میں ایک نجی بینک کے ملازم کی درخواستِ ضمانت مسترد کر دی گئی جبکہ ٹیلی کام فرنچائز آپریٹر کو بعد از گرفتاری ضمانت دے دی گئی۔ اس مقدمے کی تفتیش نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے درج کی تھی، جو کہ متاثرہ صارفین کے شناختی کارڈز، بائیو میٹرک تفصیلات اور جعلی سمز کے اجرا کے ذریعے چھ مختلف اکاؤنٹس سے ایک کروڑ روپے سے زائد کی غیر قانونی منتقلی سے متعلق تھی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں وضاحت کی کہ بینکوں کی طرف سے رکھی جانے والی صارفین کی معلومات، بشمول اکاؤنٹ کی تفصیلات اور رجسٹرڈ موبائل نمبرز، پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت ڈیٹا کی تعریف میں آتی ہیں اور پیکا کی دفعہ 27 (2) اس طرح کے ڈیٹا کو تعزیراتِ پاکستان (PPC) کے تحت پراپرٹی ہی تصور کرتی ہے۔ معزز جج نے مشاہدہ کیا کہ جہاں کسٹمر کا ڈیٹا کسی بینک ملازم کے سپرد کیا جاتا ہے، وہاں فراڈ کی اسکیم میں اس کا غیر قانونی انکشاف یا استعمال مجرمانہ اعتماد شکنی بن جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس قسم کا رویہ بینکنگ ملازمت سے وابستہ رازداری کے فرائض اور بینکنگ کمپنیز آرڈیننس 1962 کی دفعہ 33 اے کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔جسٹس طارق سلیم شیخ نے واضح کیا کہ جدید دور کی بینکنگ میں صارفین کے فنڈز کو الیکٹرانک طریقے سے محفوظ بنایا جاتا ہے اور جو بھی شخص صارفین کے اہم ڈیٹا تک رسائی رکھتا ہے، وہ عملی طور پر صارفین کے پیسوں کو کنٹرول کر رہا ہوتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ہر بینک ملازم خود بخود تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 409 کے دائرہ کار میں نہیں آتا، بلکہ اس کے لیے ایک فنکشنل ٹیسٹ لاگو ہوتا ہے، یعنی دفعہ 409 صرف اس صورت میں لاگو ہوگی جب ملازم کے پاس کسٹمر کے فنڈز یا ڈیٹا کی براہِ راست ذمہ داری ہو۔نجی بینک کے ملازم محمد عاطف کے حوالے سے عدالت نے نوٹ کیا کہ بینک کی اندرونی فراڈ رپورٹس اور تفتیشی ریکارڈ سے اس کے خلاف کافی شواہد ملے ہیں کہ اس نے صارفین کے موبائل نمبرز ظاہر کر کے سم سوآپ فراڈ میں مدد کی۔ لہذا، اس کی ضمانت کی درخواست خارج کر دی گئی۔ تاہم، دوسرے ملزم محمد عثمان جو ٹیلی کام فرنچائز سے منسلک تھے، کے بارے میں عدالت نے پایا کہ استغاثہ کے شواہد انہیں سمز کی فعال سازی یا بائیو میٹرک سسٹم کی ہیرا پھیری سے براہ راست منسلک کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ عدالت نے عثمان کے کیس کو مزید انکوائری طلب قرار دیتے ہوئے اسے دس لاکھ روپے کے مچلکے پر ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔