Technology
مارک زکربرگ کو بھارت میں قانونی استثنا برقرار رکھنے کے لیے معافی کا چیلنج
بھارتی پارلیمانی کمیٹی نے وزیراعظم نریندر مودی کی فیس بک پوسٹ ہٹائے جانے پر میٹا کے سربراہ مارک زکربرگ سے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیٹی نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر وہ معافی نہیں مانگتے تو قانونی استثنا یا محفوظ پناہ گاہ کی حیثیت واپس لی جا سکتی ہے۔
نئی دہلی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ٹیکنالوجی کی دنیا کی بڑی کمپنی میٹا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک زکربرگ کو بھارت میں اپنی سروسز کے لیے قانونی استثنا یا محفوظ پناہ گاہ کی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے ایک بڑے سیاسی اور سفارتی امتحان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایک اہم پارلیمانی پینل نے حالیہ دنوں میں وزارت الیکٹرونکس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں سخت مؤقف اختیار کیا ہے اور مارک زکربرگ سے باضابطہ معافی کا مطالبہ کیا ہے۔
معاملے کی جڑ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی ایک فیس بک پوسٹ کو مبینہ طور پر پلیٹ فارم سے ہٹائے جانے کا واقعہ ہے۔ پارلیمانی کمیٹی کا ماننا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے سیاسی رہنما کی پوسٹ کو ہٹانا یا اس تک رسائی محدود کرنا بھارتی قوانین اور خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ اسی بنیاد پر پینل نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر کمپنی یا اس کے اعلیٰ ترین سربراہ کی جانب سے اس غلطی پر معافی نہیں مانگی جاتی تو انٹرنیٹ قوانین کے تحت حاصل استثنائی تحفظ کو ختم کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر میٹا کو حاصل محفوظ پناہ گاہ کا تحفظ واپس لے لیا جاتا ہے تو پلیٹ فارم پر موجود مواد کی ذمہ داری براہ راست کمپنی اور اس کے عہدیداروں پر عائد ہوگی، جس سے بھارت میں ان کے کاروباری ماڈل کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ وزارت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پارلیمانی پینل کے اراکین اس بات پر بضد ہیں کہ بڑی ٹیک کمپنیوں کو مقامی قوانین کا مکمل احترام کرنا ہوگا اور کسی بھی قسم کی من مانی یا سیاسی شخصیات کے خلاف تعصب برداشت نہیں کیا جائے گا۔
آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید گرما گرم بحث متوقع ہے کیونکہ میٹا اور بھارتی حکومت کے درمیان ڈیجیٹل ضوابط اور آزادی اظہار کے معاملات پر پہلے ہی کئی محاذوں پر کشمکش جاری ہے۔ مارک زکربرگ اور میٹا کی انتظامیہ کے پاس اب یہ کڑا فیصلہ موجود ہے کہ آیا وہ بھارت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے اس پارلیمانی مطالبے کے آگے جھکتے ہیں یا پھر قانونی محاذ آرائی کا طویل راستہ اختیار کرتے ہیں جس کے سنگین تجارتی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔