LIVE
Loading Breaking News...

نائیجیریا میں پوسٹ یو ٹی ایم ای اسکریننگ ٹیسٹ اور اس کی افادیت کا جائزہ

News Image
نائیجیریا میں جامعاتی داخلوں کے لیے پوسٹ یو ٹی ایم ای اسکریننگ ٹیسٹ کے نظام کو نافذ ہوئے بیس سال مکمل ہو چکے ہیں۔ اس طویل عرصے کے بعد اب اس داخلہ روایت کی افادیت اور اس پر ہونے والی تنقید پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
نائیجیریا کے تعلیمی حلقوں میں پوسٹ یو ٹی ایم ای اسکریننگ ٹیسٹ کو نافذ ہوئے بیس سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، اور اب اس اہم داخلہ روایت کی افادیت، کامیابیوں اور اس پر عائد ہونے والی تنقید کے حوالے سے ایک بار پھر مباحثہ شروع ہو گیا ہے۔ جب اس نظام کو پہلی بار متعارف کرایا گیا تھا تو اس کا مقصد جامعاتی سطح پر طلبا کے معیار کو بہتر بنانا اور داخلہ کے عمل میں شفافیت لانا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس ٹیسٹ نے نائیجیریا کی اعلیٰ تعلیمی درسگاہوں کے داخلہ کے طریقہ کار میں ایک مرکزی حیثیت حاصل کر لی ہے۔ تاہم، دو دہائیوں کا سفر طے کرنے کے بعد اس نظام کو متعدد چیلنجز اور تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ ماہرین تعلیم اور والدین کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جا रहा ہے کہ آیا یہ ٹیسٹ طلبا کی حقیقی صلاحیتوں کا عکاس ہے یا پھر یہ نوجوانوں اور ان کے اہل خانہ پر ایک اضافی مالی اور ذہنی بوجھ بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ، مختلف جامعات کے الگ الگ معیارات اور طریقہ ہائے کار نے طلبا کے لیے مزید پیچیدگیاں پیدا کی ہیں، جس سے پورے نظام میں یکسانیت کا فقدان نظر آتا ہے۔ ان تمام خدشات اور تنقید کے پیش نظر، اب تعلیمی ماہرین اور پالیسی سازوں کی طرف سے یہ مطالبہ کیا جا रहा ہے کہ اس پورے داخلہ کے عمل کا از سر نو جائزہ لیا جائے۔ وقت آ گیا ہے کہ نائیجیریا کا تعلیمی شعبہ یہ فیصلہ کرے کہ آیا پوسٹ یو ٹی ایم ای ٹیسٹ اپنے مقاصد میں کامیاب رہا ہے یا اس میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اس ری آٹومیشن کے ذریعے ہی طلبا کے لیے ایک منصفانہ، شفاف اور کم بوجھل داخلہ نظام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔