LIVE
Loading Breaking News...

جولائی میں رینسم ویئر سائبر حملوں میں 19 فیصد کا بڑا اضافہ

News Image
رپورٹس کے مطابق سال کی دوسری سہ ماہی میں سستی کے بعد جولائی کے مہینے میں رینسم ویئر حملوں میں 19 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مالیاتی اداروں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ہیلتھ کیئر کے شعبوں کو ان خطرناک سائبر حملوں کا سب سے زیادہ نشانہ بنایا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں سستی کا شکار رہنے والے رینسم ویئر حملوں میں جولائی کے مہینے کے دوران اچانک 19 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مشہور کنزیومر سروس فرم کمپیری ٹیک کی جانب سے جاری کردہ ایک نئی تجزیاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جولائی کے دوران سائبر مجرموں نے دنیا بھر میں اپنی کارروائیوں کو ایک بار پھر تیز کر دیا ہے۔ اس تازہ لہر نے بالخصوص مالیاتی اداروں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور صحت عامہ یعنی ہیلتھ کیئر کے شعبوں کو شدید ترین نقصان پہنچایا ہے، جو پہلے ہی سیکیورٹی خدشات کا شکار تھے۔ ماہرین کے مطابق رینسم ویئر کے یہ نئے حملے زیادہ پیچیدہ اور منظم انداز میں کیے جا رہے ہیں، جن کا مقصد اہم تنصیبات اور اداروں کے ڈیٹا کو خفیہ بنا کر بھاری تاوان وصول کرنا ہے۔ مالیاتی شعبہ ہائے زندگی اور ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں ہیکرز کے نشانے پر سب سے اوپر رہی ہیں، کیونکہ ان اداروں کے پاس کروڑوں صارفین کا حساس اور قیمتی ڈیٹا موجود ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ہیلتھ کیئر کے نظام میں مداخلت سے مریضوں کا ریکارڈ اور طبی خدمات بھی شدید متاثر ہوئی ہیں، جس سے طبی شعبے کی سائبر سیکیورٹی پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں اور سائبر سیکیورٹی کے ماہرین نے تمام متعلقہ اداروں اور تنظیموں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے ڈیجیٹل سیکیورٹی کے نظام کو فوری طور پر مزید سخت کریں۔ فرم کی رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ ملازمین کو فشنگ اور دیگر سوشل انجینئرنگ کی تیکنیکوں سے بچانے کے لیے خصوصی تربیت دی جائے اور باقاعدگی سے ڈیٹا کا بیک اپ محفوظ بنایا جائے تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال یا رینسم ویئر حملے کے وقت فوری بحالی ممکن ہو سکے۔ اگر بروقت حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے مہینوں میں سائبر حملوں کی یہ لہر مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔