Business
مالیاتی شعبے میں اے آئی کا استعمال: سی ای اے ناگیشورن کا بیان
چیف اکنامیک ایڈوائزر وی اننت ناگیشورن نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت مالیاتی اداروں کو کریڈٹ کی اہلیت بہتر طریقے سے جانچنے میں مدد دے سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی کا نفاذ ایسا ہونا چاہیے جو کسی بھی نئی قسم کی معاشی محرومی یا اخراج کا باعث نہ بنے۔
بھارت کے چیف اکنامیک ایڈوائزر (سی ای اے) وی اننت ناگیشورن نے حال ہی میں ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو مالیاتی شعبے میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی حفاظت اور سیکیورٹی کے حوالے سے ایک انتہائی فعال اور پیشگی حکمت عملی اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں جہاں مالیاتی ادارے تیزی سے آٹومیشن اور ڈیجیٹل سسٹمز کی طرف منتقل ہو رہے ہیں، وہاں خطرات سے نمٹنے کے لیے مضبوط حفاظتی ڈھانچہ ناگزیر ہے۔
سی ای اے نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت مالیاتی فرموں کے لیے انتہائی کارآمد ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کی مدد سے ادارے صارفین کی کریڈٹ کی اہلیت کا زیادہ مؤثر انداز میں تجزیہ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اے آئی سسٹمز مالیاتی دباؤ اور دیوالیہ پن کے خطرات کو ابتدائی مرحلے پر ہی شناخت کرنے اور وارننگ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے معاشی بحرانوں سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔
تاہم، وی اننت ناگیشورن نے اس بات پر بھی گہرا زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال انتہائی احتیاط کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔ اے آئی کے نفاذ یا تعیناتی کی وجہ سے معاشرے میں کسی بھی نئی قسم کی مالیاتی محرومی یا تفریق کو جنم نہیں لینا چاہئے۔ ٹیکنالوجی کا مقصد تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنا ہونا چاہیے نہ کہ کسی کو مالیاتی نظام سے باہر دھکیلنا۔
ماہرین کے مطابق، معاشی پالیسی سازوں کی طرف سے اس قسم کے بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومت ڈیجیٹل اور مالیاتی انضمام کے فوائد حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے ممکنہ خطرات سے بھی پوری طرح باخبر ہے۔ مالیاتی ریگولیٹرز کو آنے والے دنوں میں ایسے ضوابط وضع کرنے ہوں گے جو مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنائیں اور معیشت کے تمام شعبوں کے مفادات کا تحفظ کریں۔