Technology
مصنوعی ذہانت اور کاروباری ترقی: ایمیزون کی نئی کامیابی
مصنوعی ذہانت اس ہفتے ڈیجیٹل معیشت کے مرکز میں رہی جبکہ ریگولیٹری جنگیں بھی جاری رہیں۔ اس دوران ایمیزون کی اشتہاری آمدنی اٹھत्तर ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔
ڈیجیٹل معیشت میں مصنوعی ذہانت کا کردار دن بہ دن اہم ہوتا جا رہا ہے اور حالیہ ہفتے کے دوران بھی اے آئی دنیا بھر کی کاروباری سرگرمیوں کا مرکز بنی رہی۔ اس دوران جہاں قانونی اور ریگولیٹری چیلنجز نے مارکیٹ کے مسابقتی منظرنامے کو تبدیل کیا، وہیں ٹیکنالوجی کمپنیوں نے اپنی مالی کارکردگی میں بھی شاندار بہتری دکھائی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مصنوعی ذہانت کے جدید آلات کاروبار کو زیادہ مؤثر اور منافع بخش بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
میڈیا اور ٹیک انڈسٹری کی روزانہ کی رپورٹس کے مطابق، اس تند و تیز مسابقت میں بڑی کمپنیاں سب سے آگے ہیں۔ خاص طور پر ایمیزون نے اشتہاری شعبے میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے اور اس کی سالانہ اشتہاری آمدنی چھہتر ارب امریکی ڈالر تک جا پہنچی ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ڈیجیٹل اشتہار بازی اور اے آئی پر مبنی ٹارگٹنگ نے کاروباری اداروں کے لیے منافع کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔
دوسری جانب، والٹ ڈزنی اور ٹِک ٹاک جیسے بڑے نام بھی اس ڈیجیٹل تبدیلی کا حصہ بنے ہوئے ہیں جہاں تخلیق کاروں کے ساتھ نئی شراکت داریاں کی جا رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال مزید بڑھے گا، جس سے نہ صرف روایتی کاروبار کرنے کے طریقوں میں انقلاب آئے گا بلکہ صارفین کو بھی زیادہ بہتر اور ذاتی نوعیت کی خدمات حاصل ہوں گی۔