Business
عالمی مارکیٹ: امریکی جاب ڈیٹا سے قبل اسٹاک اور ڈالر دباؤ کا شکار
امریکہ کے اہم روزگار کے اعداد و شمار جاری ہونے سے قبل عالمی مارکیٹ میں اسٹاک اور ڈالر کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔ دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے بعد تیل کی قیمتوں میں تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔
عالمی مارکیٹس میں جمعہ کے روز امریکی روزگار کے اہم اعداد و شمار جاری ہونے سے پہلے بے یقینی کی فضا دیکھی گئی، جس کے باعث حصص بازار اور امریکی ڈالر کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔ سرمایہ کار اس تازہ ترین جاب ڈیٹا کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں تاکہ معیشت کی سمت کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔ اس کے باوجود، کارپوریٹ اداروں کے مضبوط مالیاتی نتائج اور مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے جوش و خروش کی بدولت عالمی اسٹاکس مئی کے بعد سے اپنے سب سے بہترین ہفتہ وار اضافے کی راہ پر گامزن ہیں۔
امریکہ سے آنے والے اس اقتصادی ڈیٹا کے حوالے سے تجارتی حلقوں میں ملی جلی کیفیات پائی جاتی ہیں۔ جہاں ایک طرف مضبوط معاشی اشاریے مارکیٹ کے لیے حوصلہ افزا ہیں، وہیں دوسری طرف مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر سے بھڑکنے والی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔ خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے براہ راست اثرات توانائی کی مارکیٹ پر پڑے ہیں، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ خلیجی خطے کی موجودہ صورتحال اور مشرق وسطیٰ کے تنازعات عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی کے تسلسل کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تیل کے سوداگر کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنی پوزیشنز کو مضبوط کر رہے ہیں۔ اس پس منظر میں خام تیل کی قیمتیں اوپر کی طرف گامزن ہیں، جو کہ عالمی معیشت کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتی ہیں۔
آنے والے دنوں میں امریکی روزگار کی رپورٹ نہ صرف شرح سود کے مستقبل کے بارے میں مرکزی بینک کے فیصلوں کو متاثر کرے گی بلکہ یہ عالمی مالیاتی منڈیوں کی اگلی سمت کا بھی تعین کرے گی۔ سرمایہ کار اور تجارتی ادارے اس تمام صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے بچتے ہوئے بہتر مالیاتی فیصلے کیے جا سکیں۔