LIVE
Loading Breaking News...

مالیاتی اداروں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال اور نئی تحقیق

News Image
نئی تحقیق کے مطابق مالیاتی خدمات فراہم کرنے والے ادارے اپنے پس پردہ امور میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے نمایاں کارکردگی حاصل کر رہے ہیں۔ بینک اور بیمہ کمپنیاں کسٹمرز کی نظروں سے اوجھل اہم کاروباری سرگرمیوں میں اے آئی ٹیکنالوجی کو تیزی سے بروئے کار لارہیں ہیں۔
جدید ترین ریسرچ رپورٹس کے مطابق مالیاتی خدمات فراہم کرنے والے ادارے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کے ذریعے اپنی کارکردگی کو بہتر سے بہترین بنانے کی دوڑ میں مصروف ہیں۔ مئی کے مہینے میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ 'دی انٹرپرائز اے آئی بینچ مارک رپورٹ' میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ بینک، انشورنس کمپنیاں اور دیگر مالیاتی ادارے اپنے ان کاروباری امور میں مصنوعی ذہانت کے بہترین نتائج حاصل کر رہے ہیں جو عام طور پر صارفین کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں۔ اس مطالعے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ فنانشل سیکٹر نے تقریبا ستائیس مختلف روزمرہ کے امور اور ٹاسکس کے لیے مصنوعی ذہانت کو کامیابی کے ساتھ نافذ کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ صارفین زیادہ تر فرنٹ اینڈ یا کسٹمر سروس سے وابستہ اے آئی سسٹمز جیسے کہ چیٹ بوٹس کو دیکھتے ہیں، لیکن اصل اور گہرے فوائد پس پردہ کارروائیوں میں حاصل ہو رہے ہیں۔ ان پوشیدہ امور میں ڈیٹا کا تجزیہ، رسک مینجمنٹ، فراڈ کی روک تھام اور داخلی انتظامی عمل شامل ہیں۔ مالیاتی اداروں نے ان شعبوں میں مصنوعی ذہانت کو اس لیے ترجیح دی ہے کیونکہ اس سے نہ صرف انسانی غلطیوں کا امکان کم ہوتا ہے بلکہ فیصلوں کی رفتار میں بھی کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس رپورٹ نے اس امر پر بھی روشنی ڈالی ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں کمپنیاں روایتی طریقوں کو چھوڑ کر ڈیجیٹل آٹومیشن کی طرف تیزی سے منتقل ہو رہی ہیں۔ بینکاری اور مالیاتی شعبہ جات میں ڈیٹا کی حفاظت اور درستگی انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے، اور مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز اس معاملے میں اداروں کے لیے ایک ڈھال کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں فنانشل فرمز اے آئی کا دائرہ کار مزید وسیع کریں گی تاکہ عالمی منڈی میں مسابقت کی دوڑ میں سب سے آگے رہ سکیں۔