World
یوکرین جنگ میں جارحیت کا نیا مرحلہ، فیکٹریوں اور گوداموں پر حملے
یوکرین کی جنگ میں حالیہ ہفتوں کے دوران فیکٹریوں اور گوداموں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ پیشرفت تنازع کے ایک نئے اور شدید ترین مرحلے کی نشاندہی کرتی ہے۔
یوکرین اور روس کے درمیان جاری طویل جنگ اب ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں عسکری ماہرین اسے جارحیت کا ایک نیا اور خطرناک مرحلہ قرار دے رہے ہیں۔ حالیہ چند ہفتوں کے دوران ہونے والی کارروائیوں میں فیکٹریوں، صنعتی زونز اور بڑے گوداموں کو براہ راست نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف یوکرین کی معیشت کو شدید دھچکا لگ رہا ہے بلکہ عام شہریوں کی زندگی بھی مزید اجیرن ہوتی جا رہی ہے۔ اس نئی حکمت عملی کے تحت اہم تنصیبات کو منظم طریقے سے تباہ کیا جا رہا ہے تاکہ مخالف فریق کی جنگی صلاحیتوں اور رسد کے نظام کو کمزور کیا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے حملے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھانے کا سبب بن رہے ہیں اور سفارتی سطح پر امن کے حصول کی کوششیں پس منظر میں چلی گئی ہیں۔ فیکٹریوں اور صنعتی گوداموں کی تباہی سے ملک بھر میں پیداواری نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے، اور سپلائی چین بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہیں کیونکہ صنعتی مقامات پر حملوں کے نتیجے میں ماحولیاتی آلودگی اور انسانی بحران میں بھی نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس جنگی حکمت عملی کے کیا اثرات مرتب ہوں گے، اس کا اندازہ لگانا فی الحال مشکل ہے، تاہم یہ بات واضح ہے کہ یہ تنازع اب محض عسکری محاذ تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے معاشی اور صنعتی تنصیبات کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔