LIVE
Loading Breaking News...

اروند کیجریوال کا آئی ٹی رولز میں سختی پر سخت ردعمل

News Image
دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے مرکز کی جانب سے آئی ٹی رولز میں حالیہ سختی کو تنقید کا گلا گھٹنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومتوں کو عوامی مسائل اور حکمرانی پر توجہ دینی چاہئے۔
نئی دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے مرکزی حکومت کی جانب سے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے قوانین میں کی گئی حالیہ سخت ترامیم پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عوام کی آواز دبانے کی ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی یہ کوششیں دراصل ہر اس تنقید کو کچلنے کے لیے ہیں جو سرکاری پالیسیوں کے خلاف اٹھتی ہے۔ اروند کیجریوال کا مؤقف ہے کہ جمہوری نظام میں اختلافِ رائے اور تنقید کی گنجائش ہونی چاہیے، نہ کہ حکومتی جبر کے ذریعے اسے خاموش کرایا جائے۔ حالیہ دنوں میں مرکزی حکومت کی جانب سے آئی ٹی رولز میں کچھ نئی ترامیم کا اعلان کیا گیا ہے، جن کے تحت ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا پر قابل اعتراض یا مخصوص مواد کو ہٹانے کے لیے وقت کی حد کو گھٹا کر صرف دو گھنٹے کر دیا گیا ہے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ قدم جعلی خبروں اور ریاستی سلامتی کے خلاف مواد کے تدارک کے لیے اٹھایا گیا ہے، تاہم اپوزیشن رہنماؤں بالخصوص اروند کیجریوال نے اس پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔ اروند کیجریوال نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ حکومت کو اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرنے کے بجائے اپنی گورننس کو بہتر بنانے اور عوامی فلاح و بہبود کے امور پر توجہ دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جب حکومتیں عوامی تنقید کا سامنا کرنے سے گھبرانے لگتی ہیں تو وہ اس قسم کے سخت قوانین کا سہارا لیتی ہیں جو بالاآخر بنیادی حقوق اور آزادیٔ اظہارِ رائے کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ آئی ٹی قوانین میں یہ سختی ڈیجیٹل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز پر حکومتی کنٹرول کو مزید مضبوط کرے گی، لیکن اس سے جمہوریت کے بنیادی ستونوں پر بھی سوالیہ نشان لگتے ہیں۔ اروند کیجریوال کے اس بیان کے بعد ملک بھر میں ایک بار پھر اظہارِ رائے کی آزادی اور آن لائن ضابطہ اخلاق کے حوالے سے بحث کا آغاز ہو چکا ہے، اور اپوزیشن جماعتیں اس معاملے پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر آواز اٹھانے کی تیاری کر رہی ہیں۔