Technology
میٹا کو بچوں کی حفاظت کے مقدمے میں بڑا جرمانہ - نیکسورا نیوز اردو
امریکی ریاست نیو میکسیکو کی عدالت نے بچوں کی حفاظت کے ایک اہم مقدمے میں میٹا کو عوامی ابتری پھیلانے کے جرم میں مزید 567 ملین ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس تازہ ترین فیصلے کے بعد میٹا پر کل جرمانے کی رقم بڑھ کر تقریبا ایک ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی میٹا کو بچوں کی حفاظت کے حوالے سے نیو میکسیکو کے ایک تاریخی مقدمے کے دوسرے مرحلے میں مزید 567 ملین ڈالر جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس تازہ ترین فیصلے کے بعد کمپنی پر عوامی ابتری یا پبلک نیو سینس پھیلانے کے الزامات کے تحت عائد ہونے والے کل واجبات اور جرمانے کی رقم بڑھ کر تقریبا ایک ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ سانتا فے کی ضلعی عدالت کی جانب سے جمعرات کو جاری کیے جانے والے فیصلے میں یہ سخت اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ میٹا کے پلیٹ فارمز بچوں کی حفاظت کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہے ہیں اور ان کی پالیسیوں نے معاشرے اور خاص طور پر کم عمر صارفین کے لیے خطرات پیدا کیے۔ اس قانونی لڑائی کا آغاز نیو میکسیکو کی ریاست کی جانب سے کیا گیا تھا جس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کی ذہنی صحت اور سلامتی سے متعلق سنگین سوالات اٹھائے تھے۔ مقدمے کے دوران عدالت نے اس بات کا تفصیلی جائزہ لیا کہ کس طرح ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ناقص پالیسیاں عوامی مفاد کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
میٹا کے ترجمان نے اس عدالتی فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مایوسی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کمپنی اس حکم کے خلاف اپیل دائر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ میٹا کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز کو نوجوانوں کے لیے محفوظ بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے اور حفاظتی فیچرز متعارف کروا رہی ہے۔ تاہم عدالتی کارروائی اور جج کے فیصلے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی کے بڑے اداروں پر اب قانونی اور اخلاقی دباؤ میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ دنیا بھر کی سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے ایک اہم مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس نوعیت کے مقدمات دیگر امریکی ریاستوں اور بین الاقوامی سطح پر بھی ٹیک کمپنیوں کے لیے کڑی جانچ کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد میٹا کو نہ صرف مالی طور پر بڑا دھکا لگا ہے بلکہ اس کی کارپوریٹ ساکھ کو بھی نقصان پہنچا ہے جو کہ آن لائن سیفٹی کے قوانین کو سخت بنانے کی تحریک میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔