LIVE
Loading Breaking News...

سعودی عرب میں مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا اکانومی کا فروغ

News Image
سعودی عرب ملک میں مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے اور ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے کے لیے تیزی سے کام کر رہا ہے۔ بین الاقوامی شراکت داری اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے ذریعے مملکت اس شعبے میں عالمی قیادت کی طرف گامزن ہے۔
سعودی عرب مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں ایک نئے اور تیز رفتار ترقی کے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، ملک کے اندر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر ایک نمایاں مقام حاصل کرنا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے اٹھائے جانے والے یہ اقدامات ملک کے وژن کے عین مطابق ہیں، جو روایتی معیشت سے ہٹ کر ایک مستحکم علم پر مبنی معیشت کی تشکیل پر زور دیتے ہیں۔ اس حکمت عملی کا ایک اہم حصہ بین الاقوامی سطح کی معروف ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داریاں قائم کرنا ہے۔ دنیا بھر کے بڑے تکنیکی ادارے سعودی عرب میں سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔ جدید ترین ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر سے نہ صرف ملکی سطح پر کمپیوٹنگ کی صلاحیت میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ اس سے خطے کے دیگر ممالک کو بھی جدید ڈیجیٹل خدمات فراہم کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے علاوہ، سعودی عرب کی توجہ خلائی معیشت اور جدید ترین سائنسی تحقیق پر بھی مرکوز ہے۔ خلائی شعبے میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے ملک میں ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے نئے دروازے کھل رہے ہیں، جو مستقبل کی ٹیکنالوجی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ان تمام اقدامات کے نتیجے میں سعودی عرب آنے والے برسوں میں ڈیجیٹل اور خلائی معیشت کے میدان میں دنیا کے سرکردہ ممالک کی صف میں شامل ہو جائے گا۔