Politics
آزاد کشمیر الیکشن میرپور ڈویژن پولنگ جھڑپیں اور نتائج
آزاد جموں و کشمیر انتخابات کے پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کے تینوں اضلاع میں پولنگ کا عمل اختتام پذیر ہو گیا۔ اس دوران مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے درمیان جھڑپوں اور فائرنگ کے نتیجے میں کشیدہ صورتحال رہی اور ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔
آزاد جموں و کشمیر انتخابات کے پہلے مرحلے کے تحت میرپور ڈویژن کے 13 انتخابی حلقوں میں پولنگ کا عمل تمام تر کشیدگی اور الزامات کے سائے میں اختتام پذیر ہو گیا۔ میرپور ڈویژن کے تینوں اضلاع یعنی بھمبر، میرپور اور کوٹلی میں پولنگ صبح آٹھ بجے شروع ہوئی جو کہ ایک گھنٹے کے اضافے کے بعد شام چھ بجے تک بلا تعطل جاری رہی۔ اس دوران مختلف پولنگ اسٹیشنز پر سیاسی جماعتوں بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے کارکنان کے درمیان جھڑپیں اور تلخ کلامی کے واقعات بھی پیش آئے جس سے انتخابی ماحول خاصا کشیدہ رہا۔ کوٹلی کے حلقہ ایل اے 9 میں انتخابی عمل کے دوران صورتحال اس وقت انتہائی پرتشدد ہو گئی جب فائرنگ کے نتیجے میں پی پی پی کا ایک کارکن جاں بحق ہو گیا۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نے اس المناک واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کا کارکن مخالف امیدوار کے حامیوں کی فائرنگ اور ہراسانی کا نشانہ بن کر جاں بحق ہوا ہے۔ اس واقعے کے بعد حلقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور انتظامیہ کو امن و امان بحال کرنے کے لیے اضافی نفری تعینات کرنا پڑی۔ دوسری جانب الیکشن کے دوران مختلف مقامات پر مبینہ دھاندلی، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور پولنگ کے عمل کو اثر انداز کرنے کی شکایات بھی سامنے آئیں۔ بھمبر کے علاقے سماہنی میں کچھ افراد مبینہ طور پر بیلٹ باکسز اٹھا کر لے گئے جبکہ ایک اور مقام پر بیلٹ باکس کو نذر آتش کرنے کا افسوسناک واقعہ بھی پیش آیا جس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا۔ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں یعنی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن ایک دوسرے پر انتخابی ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑانے اور پولنگ کے عمل پر اثر انداز ہونے کے الزامات عائد کرتی رہیں۔ الیکشن کمیشن کو متعدد مقامات پر ہونے والی ہنگامہ آرائی اور بدنظمی کے خلاف شکایات موصول ہوئیں جن پر حکام نے نوٹس لینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کے باوجود پیش آنے والے ان پرتشدد واقعات نے انتخابی عمل کو متنازع بنانے کی کوشش کی ہے، جبکہ بقیہ حلقوں میں پولنگ کے اگلے مراحل کے لیے بھی انتظامیہ کو الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ آئندہ مراحل میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔