Business
آر بی آئی کی ای ایم آئی ڈیفالٹس پر ڈیوائسز بلاک کرنے کی اجازت
ریزرو بینک آف انڈیا نے قرض کی اقساط ادا نہ کرنے پر قرض دہندگان کو بتدریج ڈیوائسز محدود کرنے کی اجازت دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریکوری ایجنٹس کے حوالے سے ضوابط میں بھی نرمی کی گئی ہے تاکہ صارفین کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔
نئی دہلی: بھارتی ریزرو بینک (آر بی آئی) نے ایک اہم فیصلے میں قرض دہندگان کو یہ اجازت دے دی ہے کہ وہ قرض کی اقساط (ای ایم آئی) کی عدم ادائیگی پر مالیاتی خدمات کے تحت خریدی گئی ڈیجیٹل ڈیوائسز کو محدود کر سکتے ہیں۔ تاہم یہ پابندیاں انتہائی بتدریج اور اس وقت عائد کی جائیں گی جب قرض کی ادائیگی میں طویل تاخیر ہو چکی ہو۔ اس قدم کا مقصد ڈیجیٹل قرض دینے والے اداروں کے لیے رسک مینجمنٹ کو بہتر بنانا ہے۔
نئے ضوابط کے تحت، اگر کوئی صارف مقررہ وقت پر ای ایم آئی ادا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو مالیاتی ادارے اس کے فون یا دیگر گیجٹس پر کچھ مخصوص فیچرز تک رسائی محدود کر سکتے ہیں۔ اس کے باوجود مرکزی بینک نے صارفین کے بنیادی حقوق اور ایمرجنسی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ آنے والی کالز اور ایمرجنسی فنکشنز ہر صورت فعال رہیں گے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں صارف کا رابطہ منقطع نہ ہو۔
اس پالیسی تبدیلی میں نہ صرف ڈیوائس ریسٹرکشنز کو قواعد کے دائرے میں لایا گیا ہے بلکہ ریکوری ایجنٹس کے ضابطہ اخکار کو بھی آسان بنایا گیا ہے۔ آر بی آئی کی جانب سے ریکوری ایجنٹس کے حوالے سے ڈسکلوزر نارمز میں نرمی کی گئی ہے تاکہ قرض کی وصولی کے عمل کو زیادہ شفاف اور اصولوں کے مطابق بنایا جا سکے، جس سے بینکوں اور صارفین دونوں کے درمیان اعتماد سازی میں مدد ملے گی۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نئے فریم ورک سے جہاں ایک طرف ڈیجیٹل قرض دہندگان کے نان پرفارمنس اثاثہ جات (این پی اے) میں کمی واقع ہوگی، وہیں دوسری طرف قرض لینے والے افراد بھی ہراسانی سے محفوظ رہیں گے۔ آر بی آئی اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے قرض کی وصولی کے عمل میں صارفین کے بنیادی انسانی حقوق اور پرائیویسی کا مکمل احترام کیا جائے۔