Business
پی ایس ایکس میں ریکارڈ تیزی، انڈیکس 178 ہزار پوائنٹس سے اوپر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر تاریخی تیزی دیکھنے میں آئی جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس 7,241 پوائنٹس کے اضافے سے 178,262 کی سطح پر بند ہوا۔ عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کمی اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود برقرار رکھنے کے فیصلے نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں نئے کاروباری ہفتے کا آغاز انتہائی شاندار انداز میں ہوا، جہاں خریداروں کی بھرپور دلچسپی کے باعث بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں سات ہزار سے زائد پوائنٹس کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بازار حصص کے آغاز پر ہی تیزی کا رجحان نمایاں تھا اور دن کے دوران انڈیکس نے 178,588 پوائنٹس کی بلند ترین سطح کو بھی چھوا۔ سیشن کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 7,241.13 پوائنٹس یا 4.23 فیصد کے اضافے کے ساتھ 178,262.33 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس شاندار تیزی کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں عارضی وقفہ اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہے، جس سے سرمایہ کاروں کے خدشات میں کمی واقع ہوئی۔اے کے ڈی سیکیورٹیز کے ڈائریکٹر ریسرچ اویس اشرف کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کی جانب سے عسکری کارروائیوں کو روکنے اور سفارتی سطح پر مذاکرات کی راہ ہموار ہونے سے عالمی تجارت بالخصوص آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کی بحالی کی امیدیں روشن ہوئی ہیں۔ دریں اثنا، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے اپنی مالیاتی پالیسی کے اعلان میں شرح سود کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھا ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ مرکزی بینک کا یہ فیصلہ احتیاطی نوعیت کا ہے تاکہ مشرق وسطیٰ کے حالات اور حالیہ ملکی سیلاب کے معاشی اثرات کا مزید جائزہ لیا جا سکے۔ اس کے باوجود، ملک میں مہنگائی کی شرح میں کمی کا رجحان اور بیرونی اکاؤنٹ کی تسلی بخش پوزیشن آنے والے مہینوں میں مزید مانیٹری نرمی کی راہ ہموار کرتی ہے۔میٹیس گلوبل اور ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق، بازار میں یہ زبردست تیزی یو بی ایل، ایف ایف سی، اینگرو، میزان بینک اور لکی سیمنٹ جیسے بڑے کارپوریٹ حصص کی شاندار کارکردگی کی مرہون منت رہی، جنھوں نے اکیلے انڈیکس میں تقریباً 2,546 پوائنٹس کا حصہ ڈالا۔ یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے مشرق وسطیٰ کے تنازع اور عالمی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں بے یقینی پائی جا رہی تھی اور انڈیکس میں کمی دیکھی گئی تھی، تاہم حالیہ مثبت اشاریوں نے کاروباری حلقوں میں نئی روح پھونک دی ہے۔