LIVE
Loading Breaking News...

نیو ہیومنز کتاب اور معذوری پر تنقید - نیکسورا نیوز

News Image
معذوری اور ٹیکنالوجی کے تعلق پر لکھی گئی نئی کتاب 'نیو ہیومنز' کا تجزیہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ موضوع پر ایک پرانا اور روایتی نقطہ نظر پیش کرتی ہے۔ ناقدین کے مطابق اس میں معذور افراد کے تجربات کو نظر انداز کر کے وہی پرانے تصورات دہرائے گئے ہیں۔
جب بھی سائبرگ یا انسانی اور مشین کے ملاپ کا تصور ذہن میں آتا ہے، تو روزمرہ کی زندگی میں استعمال ہونے والے طبی آلات جیسے کہ انسولین پمپ، کوکلیئر امپلانٹس اور پیس میکر کا خیال سب سے پہلے آتا ہے۔ یہ تمام آلات دراصل انسانی جسم کو مشین کے ساتھ جوڑتے ہیں اور معذور افراد کو بہتر زندگی گزارنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معذوری کا تعلق ہمیشہ سے ٹیکنالوجی اور انسانی ارتقا کے ساتھ گہرا رہا ہے۔ تاہم، حالیہ دنوں میں منظر عام پر آنے والی ایک نئی کتاب 'نیو ہیومنز' نے اس موضوع پر بحث کو ایک بار پھر تازہ کر دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ کتاب معذوری اور ٹیکنالوجی کے مستقبل کو بیان کرنے کے باوجود ایک انتہائی پرانا اور فرسودہ نکتہ نظر پیش کرتی ہے۔ کتاب میں جس طرح سے انسانی صلاحیتوں اور معذوری کا احاطہ کیا گیا ہے، وہ ان حقیقی تجربات سے میل نہیں کھاتا جو روزمرہ کی زندگی میں معذور افراد کو درپیش ہوتے ہیں۔ مصنف نے ٹیکنالوجی اور انسان کے ملاپ کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی کوشش تو کی ہے لیکن اس میں معذور افراد کے حقوق اور ان کی آواز کو وہ مقام نہیں ملا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ سائبرنیٹکس اور انسانی جسم کے تعلق پر بات کرتے ہوئے اکثر روایتی خیالات کو ہی دہرایا گیا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ معاشرہ آج بھی معذوری کو محض ایک طبی نقص کے طور پر دیکھتا ہے نہ کہ انسانی تنوع کے ایک حصے کے طور پر۔ اس کتاب کے مباحث پر مزید غور کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ مستقبل کی ٹیکنالوجی کے بارے میں ہمارے تصورات اب بھی پرانے تعصبات سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر ہم واقعی ایک ایسی دنیا کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں جہاں ہر انسان کے لیے برابر کے مواقع ہوں، تو ہمیں ٹیکنالوجی اور معذوری کے تعلق کو نئے سرے سے سمجھنا ہوگا۔ 'نیو ہیومنز' اس سمت میں کوئی خاطر خواہ انقلابی تبدیلی لانے میں ناکام رہی ہے اور پرانے خیالات کی تکرار پر ہی اکتفا کیا ہے۔