Technology
نیٹ فلکس کے کو سی ای او ٹیڈ سارینڈوس کی مصنوعی ذہانت پر گفتگو
نیٹ فلکس کے کو سی ای او ٹیڈ سارینڈوس نے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے فلمی صنعت پر اثرات کے حوالے سے اہم خیالات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اے آئی کے ذریعے ری شوٹس کے اخراجات میں کمی کے فوائد بتائے لیکن فی الحال کہانی سنانے کے فن میں انسانی جذبات کی کمی کو بھی تسلیم کیا۔
نیٹ فلکس کے کو سی ای او ٹیڈ سارینڈوس نے حالیہ دنوں میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے فلمی اور ٹی وی انڈسٹری پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلم سازی کے دوران ہونے والے مہنگے ری شوٹس اور تبدیلیوں کے اخراجات کو کم کرنے میں مصنوعی ذہانت ایک انتہائی مفید اور مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ٹیکنالوجی کی اس نئی لہر نے پوری فلمی دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر رکھی ہے اور تخلیقی عمل سے وابستہ افراد اس کے ممکنہ فوائد اور نقصانات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔
تاہم، ٹیڈ سارینڈوس کا یہ بھی ماننا ہے کہ موجودہ وقت میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ مواد میں انسانی روح اور جذبات کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔ ان کے مطابق، جو دل کو چھو لینے والی کہانیاں انسان لکھ سکتا ہے اور جن کی گہرائی کو ایک حقیقی فنکار سمجھ سکتا ہے، وہ مقام حاصل کرنے میں ابھی اے آئی کو کافی وقت لگے گا۔ کہانی سنانے کے روایتی اور تخلیقی انداز میں انسانی ہمدردی اور تجربات کا ایک بنیادی کردار ہوتا ہے جسے محض الگورتھم کے ذریعے مکمل طور پر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
ہالی ووڈ اور دیگر عالمی فلمی صنعتوں میں اے آئی کے استعمال پر بحث کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے۔ جہاں کچھ پروڈیوسرز اور تکنیکی ماہرین اس کے معاشی فوائد اور کارکردگی میں بہتری کے حامی ہیں، وہیں تخلیقی کارکنان، اداکار اور لکھاری اپنی نوکریوں اور فن کے تقدس کو لے کر شدید فکر مند ہیں۔ نیٹ فلکس کے سربراہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پوری انڈسٹری اس دوہرے دوراہے پر کھڑی ہے کہ کس طرح ٹیکنالوجی کے اس نئے دور کو اپنایا جائے اور ساتھ ہی ساتھ فن کی اصل روح اور انسانی تخلیق کاری کا تحفظ بھی کیا جائے۔