World
اسپین میں جنگلات کی آگ اور ہیٹ ویو کا خطرہ
اسپین میں حکام نے جنگلات کی تباہ کن آگ پر قابو پانے کے لیے پیر اور منگل کو انتہائی اہم قرار دیا ہے کیونکہ ملک بھر میں ایک نئے ہیٹ ویو کا خدشہ ہے۔ وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے شہریوں سے انتہائی احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے جبکہ ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا ہے۔
اسپین میں حکام کا کہنا ہے کہ آنے والے دو دن انتہائی اہم ہیں کیونکہ موسم کی صورتحال مزید خراب ہونے اور درجہ حرارت میں اضافے سے قبل جنگلات میں لگی ہولناک آگ پر قابو پانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ دارالحکومت کے گردونواح کے جنگلات میں پھوٹ پڑنے والی اس آگ نے تقریباً ساٹھ ہزار افراد کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے، جنہیں محض چند منٹوں کے نوٹس پر محفوظ مقامات کی طرف ہجرت کرنا پڑی۔ متاثرہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے رضاکاروں اور رہائشیوں کا کہنا ہے کہ صورتحال انتہائی دلخراش ہے اور آگ نے بڑے پیمانے پر املاک اور درختوں کو خاکستر کر دیا ہے۔ رات کے وقت درجہ حرارت میں کمی اور ہوا کی رفتار دھیمی ہونے کی وجہ سے دارالحکومت کے مغرب میں لگی آگ کے پھیلاؤ میں کچھ حد تک کمی ضرور آئی ہے، لیکن خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے وسطی اور جنوبی حصوں میں درجہ حرارت چالیس ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے، جس کے پیش نظر فائر فائٹرز کے پاس بروقت اقدامات کے لیے بہت کم وقت بچا ہے۔ وزارتِ داخلہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ موجودہ دو دن صورتحال کو سنبھالنے اور آگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ دوسری جانب، وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملک بھر کے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کریں اور تمام ممکنہ تدابیر اختیار کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے اس طرح کے انتہائی موسمی حالات اب استثناء نہیں بلکہ ایک معمول بنتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس سال اب تک اسپین میں آگ کے مختلف واقعات کے نتیجے میں پندرہ لاکھ ہیکٹر سے زائد رقبہ متاثر ہو چکا ہے جبکہ متعدد افراد اپنی جانیں بھی گنوا چکے ہیں۔ حکام متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں تیزی سے جاری رکھے ہوئے ہیں اور فرانسیسی سرحد کے قریب واقع ریجنز میں بھی صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے جہاں شعلے خوفناک شکل اختیار کر چکے ہیں۔