LIVE
Loading Breaking News...

جاپان میں طوفان ڈالفن کا حملہ، چین کی طرف روانہ

News Image
جاپان میں طاقتور طوفان ڈالفن کے ٹکرانے سے پانچ ضعیف افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ طوفان کے شدید اثرات کے بعد اب اس کا رخ چین کی طرف ہو گیا ہے۔
جاپان میں ایک طاقتور سمندری طوفان 'ڈالفن' نے دستک دے دی ہے جس کے نتیجے میں ابتدائی طور پر پانچ ضعیف افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق اس طوفان کے باعث چلنے والی شدید اور تیز ہواؤں کی زد میں آ کر تین افراد گر کر زخمی ہوئے جبکہ دیگر کو بھی طوفان سے متعلقہ حادثات میں چوٹیں آئیں۔ خوش قسمتی سے تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے اور انہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی ہے۔ جاپانی محکمہ موسمیات نے طوفان کے پیش نظر ساحلی علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ محکمہ موسمیات اور بین الاقوامی موسمیاتی اداروں کے مطابق جاپان کے مختلف حصوں میں تباہی پھیلانے کے بعد طوفان 'ڈالفن' نے اب اپنا رخ چین کی طرف موڑ لیا ہے۔ چین کے ساحلی علاقوں میں بھی اس طوفان کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ طوفان کی رفتار اور سمت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ بروقت حفاظتی اقدامات کیے جا سکیں اور کسی بھی جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔ چین کے متوقع علاقوں میں ماہی گیروں کو کھلے سمندر میں جانے سے منع کر دیا گیا ہے اور بندرگاہوں پر الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ اس خطے میں حالیہ برسوں کے دوران شدید موسمیاتی تبدیلیوں اور طاقتور طوفانات کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے جو سائنسدانوں کے لیے تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ طوفان ڈالفن کی شدت اگرچہ کچھ مقامات پر کم ہوئی ہے تاہم سمندر میں اونچی لہریں اور موسلا دھار بارشیں اب بھی خطرے کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ جاپانی حکام کا کہنا ہے کہ طوفان کے گزرنے کے بعد ہی اصل نقصانات کا تخمینہ لگایا جا سکے گا جبکہ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں مستعدی سے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق چین کے ساحلی صوبوں میں بھی ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے کیونکہ طوفان کے وہاں پہنچنے پر شدید بارشیں اور آندھی چلنے کا امکان ہے۔ انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل کریں اور محفوظ مقامات پر رہیں۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے تمام ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری نبرد آزما ہوا جا سکے۔