Technology
یو یو وی مارکیٹ رپورٹ 2031: دفاعی اور تجارتی شعبوں میں ترقی
غیر manned زیر آب گاڑیوں (UUVs) کی عالمی مارکیٹ 2031 تک دفاعی، تجارتی اور تحقیقی شعبوں میں دوہری استعمال کی ایپلی کیشنز کی وجہ سے تیزی سے وسعت پائے گی۔ خود مختار زیر آب گاڑیاں (AUVs) تیز ترین ترقی دیکھیں گی جبکہ کونگسبرگ اور بی اے ای سسٹمز جیسی بڑی کمپنیاں اس مارکیٹ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔
غیر manned زیر آب گاڑیوں یعنی یو یو وی (UUVs) کی عالمی مارکیٹ کے حوالے سے جاری کردہ نئی پیشگوئی کے مطابق یہ صنعت 2031 تک زبردست توسیع دیکھنے جا رہی ہے۔ اس مارکیٹ کی ترقی میں دفاعی، تجارتی اور سائنسی تحقیقی شعبوں میں دوہری استعمال کی ایپلی کیشنز کا پھیلاؤ سب سے اہم محرک ثابت ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں زیر آب تحقیق اور دفاعی نگرانی کے نظام کو جدید بنانے کے لیے ان گاڑیوں کی مانگ میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق خود مختار زیر آب گاڑیاں یعنی اے یو ویز (AUVs) آنے والے برسوں میں سب سے تیز رفتار ترقی درج کروائیں گی۔ روایتی ریموٹ سے چلنے والی گاڑیوں کے مقابلے میں یہ خود مختار نظام سمندر کی گہرائیوں میں طویل عرصے تک کام کرنے، ڈیٹا اکٹھا کرنے اور خطرناک مشنز کو کامیابی سے سر انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ مختلف تجارتی اور سائنسی ادارے اب ان سے بھرپور استفادہ کر رہے ہیں، تاہم عسکری اور دفاعی شعبہ بدستور اس ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا صارف اور مارکیٹ کا قائد بنا ہوا ہے۔
اس عالمی مارکیٹ میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے کئی بڑی اور معروف کمپنیاں سرگرم عمل ہیں۔ ان کلیدی کھلاڑیوں میں کونگسبرگ، سائپیم، بی اے ای سسٹمز، ایل تھری ہیرس اور اوشینیئرنگ جیسی نامور کمپنیاں شامل ہیں جو مسلسل تحقیق اور ترقی پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ یہ کمپنیاں سمندر کی تہہ میں پائپ لائنوں کے معائنے، دفاعی گشت اور سمندری حیات کے مطالعے کے لیے جدید ترین فیچرز سے آلہ کار گاڑیاں تیار کر رہی ہیں۔
آنے والے برسوں میں جیسے جیسے سمندری وسائل کی تلاش اور ساحلی سیکیورٹی کے امور پیچیدہ ہوں گے، یو یو وی مارکیٹ کے لیے نئے دروازے کھلیں گے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی میں ہونے والی مسلسل جدت اور لاگت میں کمی کی وجہ سے نہ صرف بڑی حکومتیں بلکہ نجی ادارے بھی ان جدید نظاموں کو اپنانے میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں، جو 2031 تک اس مارکیٹ کو بلندیوں پر لے جانے کا باعث بنے گا۔