Technology
دلی اسمبلی میں اے آئی ٹیکنالوجی کا نفاذ اور لائیو ٹرانسکرپشن
دہلی اسمبلی نے قانون سازی کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے بھاشینی نامی مصنوعی ذہانت کے ایک ٹول کا تجربہ کیا ہے۔ مانسون کے اجلاس کے دوران اس نئی ٹیکنالوجی کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
نئی دہلی (نیکسو را نیوز اردو) دہلی اسمبلی نے قانون سازی کے انتظامی امور اور کارروائی کو مزید شفاف اور مؤثر بنانے کی غرض سے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ایک جدید لائیو ٹرانسکرپشن اور ترجمے کے نظام کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ اسمبلی اسپیکر کے مطابق اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد ایوان کی کارروائی کو ریکارڈ کرنا اور اراکین کے لیے ابلاغ کے عمل کو زیادہ آسان بنانا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی قانون ساز ادارے میں اس نوعیت کی جدید ترین ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو عملی جامہ پہنایا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس جدید سسٹم کا نام 'بھاشینی' (BHASHINI) رکھا گیا ہے، جو مختلف زبانوں کے درمیان فوری ترجمہ اور تحریری شکل میں منتقلی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دہلی اسمبلی اس وقت مانسون کے جاری سیشن کے دوران اس اے آئی ٹول کی کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔ نظام کے بہتر نتائج حاصل کرنے اور اس کی خامیوں کو دور کرنے کے لیے اجلاس کے شرکاء اور متعلقہ عملے سے باقاعدہ فیڈ بیک بھی حاصل کیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں اسے مستقل بنیادوں پر نافذ کیا جا سکے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ حکومتی اور قانون ساز اداروں میں اس طرح کی مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی کا نفاذ انتظامی امور میں انقلاب برپا کر سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ دستاویزات کی تیاری اور تراجم کے عمل میں انسانی غلطیوں کے امکانات بھی کم ہو جائیں گے۔ دہلی اسمبلی کا یہ قدم دیگر ریاستوں کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے جو مستقبل میں ڈیجیٹل گورننس کی طرف گامزن ہونا چاہتی ہیں۔