AI
مصنوعی ذہانت سستی لیکن انٹرپرائز اے آئی بلز زیادہ کیوں رہیں گے؟
اگرچہ تکنیکی ترقی کی وجہ سے مصنوعی ذہانت کی بنیادی لاگت میں مسلسل کمی آ رہی ہے، لیکن بڑے کاروباری اداروں کے لیے اے آئی کے بلز میں کمی کا امکان نہیں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرپرائزز کی بڑھتی ہوئی ضروریات اور اے آئی کا زیادہ استعمال اس کے اخراجات کو بلند رکھے گا۔
گذشتہ ماہ کسٹمر سپورٹ سافٹ ویئر کمپنی پائلون کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مارٹی کوساس نے ایک ایسے بجٹ کے مسئلے کا ذکر کیا جس کا سامنا بہت سے بڑے کارپوریٹ اداروں کو آنے والے وقت میں کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی کمپنی کا سالانہ انتروپک کا بل توقع سے کہیں زیادہ ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت کی بنیادی ٹیکنالوجی سستی ہو رہی ہے، لیکن انٹرپرائز لیول پر اس کا استعمال مسلسل مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔ اس صورتحال نے کاروباری حلقوں میں ایک اہم بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا اے آئی ٹیکنالوجی کی افادیت کے مقابلے میں اس کے اخراجات کو کیسے کنٹرول کیا جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے سستے ہونے کے باوجود کمپنیاں زیادہ پیچیدہ اور جدید ماڈلز کا استعمال کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے ان کے مجموعی اخراجات کم ہونے کے بجائے بڑھ جاتے ہیں۔ کاروباروں کی جانب سے اے آئی پر بڑھتی ہوئی انحصار داری اس بات کا اشارہ ہے کہ کمپنیاں کسٹمر سروس، ڈیٹا پروسیسنگ اور خودکار نظام کے لیے دن بہ دن زیادہ وسائل مختص کر رہی ہیں۔ مزید برآں، جیسے جیسے کاروباری ادارے بڑے پیمانے پر اے آئی سسٹمز کو اپنے روزمرہ کے امور میں شامل کرتے ہیں، تو سمارٹ ٹولز کی مینٹیننس اور سیکیورٹی کے تقاضے بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اس تمام صورتحال میں، اگرچہ عام صارفین اور چھوٹے ڈویلپرز کے لیے اے آئی تک رسائی نسبتاً آسان اور سستی ہو چکی ہے، لیکن بڑے کاروباری اداروں کے لیے یہ اب بھی ایک بھاری مالی بوجھ بنی ہوئی ہے۔ مستقبل قریب میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ کاروباری ادارے اے آئی کے استعمال کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے نئے حکمت عملیوں پر غور کریں گے تاکہ لاگت کو قابو میں رکھا جا سکے مگر بلز کی مجموعی سطح بلند رہنے کی توقع ہے۔