Business
امریکا ایران تنازعہ میں کمی: تیل کی قیمتوں میں چھ فیصد سے زائد کی بڑی گراوٹ
امریکا اور ایران کے مابین ویک اینڈ پر عسکری کارروائیوں میں وقفے کے باعث تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں چھ فیصد سے زائد کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے مشرق وسطیٰ میں سفارتی حل کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں اور آبنائے ہرمز سے جہاز رانی کی بحالی کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔
عالمی منڈی میں پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں چھ فیصد سے زائد کی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے جس کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان ویک اینڈ پر عسکری حملوں کا سلسلہ عارضی طور پر روکنا ہے۔ دو ہفتے تک جاری رہنے والی کشیدگی کے بعد اس وقفے نے منڈی میں اس امید کو جنم دیا ہے کہ اس تنازعے کا کوئی سفارتی حل نکل آئے گا اور اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی دوبارہ معمول پر بحال ہو سکے گی۔ ٹریڈنگ کے دوران برینٹ خام تیل کے سودے 6.20 ڈالر یعنی 6.4 فیصد کمی کے ساتھ 90.58 ڈالر فی بیرل پر آ گئے جبکہ سیشن کے آغاز میں یہ اہم ترین سطح یعنی نوے ڈالر سے بھی نیچے چلے گئے تھے۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 5.80 ڈالر یعنی 6.5 فیصد کمی کے بعد 83.51 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی ہے۔ گزشتہ تین ہفتوں سے لگاتار اضافے کے بعد دونوں بڑے معاہدے اب تقریباً ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر ٹریڈ ہو رہے ہیں۔ اس سے قبل تنازعے کی شدت کے باعث جب آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل بری طرح متاثر ہوئی تھی اور یہ بحران بحیرہ احمر تک پھیل گیا تھا تو برینٹ کروڈ کی قیمت سو ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی تھی، جس سے دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ سعودی عرب کی ایشیا کے لیے برآمدات بھی شدید رکاوٹوں کا شکار ہو گئی تھیں۔ امریکی سفارت کاروں کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹنرمپ نے سفارت کاری کو مزید موقع دینے کے لیے عسکری حملے روکنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کو مارکیٹ کے تجزیہ کاروں نے کشیدگی میں کمی کی پہلی واضح علامت قرار دیا ہے۔ تاہم اس عارضی وقفے کے باوجود جہاز رانی کی تازہ ترین رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ ویک اینڈ کے دوران آبنائے ہرمز سے یومیہ دس سے بھی کم تجارتی جہاز گزر سکے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تیل اور دیگر اشیا کی ترسیل کی بحالی کا عمل انتہائی سست اور جزوی رہے گا کیونکہ بیشتر جہاز ران کمپنیاں اب بھی سکیورٹی خدشات کے باعث احتیاط برت رہی ہیں اور وہ اس وقت تک اپنے جہاز اس علاقے میں نہیں لانا چاہتیں جب تک انہیں مکمل تحفظ کا یقین نہ دلایا جائے۔ دوسری جانب ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے علاوہ روس اور یوکرین کی جنگ کے تناظر میں تیل کی سپلائی پر دباؤ بدستور قائم رہ سکتا ہے کیونکہ یوکرینی ڈرون حملوں نے روسی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے، جس سے عالمی سطح پر مہنگائی اور رسد کے مسائل مزید سنگین ہونے کے خدشات موجود ہیں۔