LIVE
Loading Breaking News...

کرکٹ کی اولمپکس 2028 میں واپسی اور بھارتی مارکیٹ کی اہمیت

News Image
کرکٹ کی 2028 کے لاس اینجلس اولمپکس میں واپسی کا بنیادی مقصد بھارت کی اربوں ناظرین پر مشتمل بڑی کمرشل مارکیٹ تک رسائی حاصل کرنا ہے۔ اس شمولیت سے اولمپک مقابلوں کے براڈکاسٹنگ حقوق اور ناظرین کی تعداد میں کئی گنا اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔
سال 2028 میں لاس اینجلس میں ہونے والے اولمپک کھیلوں میں جب کرکٹ کی واپسی ہوگی تو یہ محض چند بلے اور گیند کا کھیل نہیں ہوگا، بلکہ یہ اولمپک رہنماؤں کی جانب سے ایک بڑی سٹریٹجک حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اولمپک حکام کا ماننا ہے کہ اربوں نئے ناظرین تک پہنچنے کا سب سے یقینی راستہ بھارت سے ہو کر گزرتا ہے، جو کرکٹ کا تجارتی مرکز ہے۔ سن 1900 کے بعد پہلی بار اولمپکس کا حصہ بننے والی کرکٹ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (آئی او سی) کو ایسا ناظرین کا بیس فراہم کر رہی ہے جو دو ارب سے زائد افراد پر مشتمل ہے، اور اس سے بھارتی مارکیٹ کی زبردست تجارتی طاقت بھی جڑی ہوئی ہے۔ اس کھیل کی اولمپکس میں شمولیت کے حوالے سے آئی او سی کے سپورٹس ڈائریکٹر پیئر ڈوکری نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ کرکٹ ان مارکیٹوں میں انتہائی مضبوط ہے جہاں شاید روایتی اولمپک کھیلوں کی رسائی اتنی زیادہ نہیں رہی جتنی دیگر خطوں میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرکٹ ایسے ناظرین کو لاس اینجلس کے کھیلوں کی طرف کھینچ کر لائے گی جو عام طور پر باقاعدگی سے اولمپکس نہیں دیکھتے۔ یہ ایک ایسا سود مند سمجھوتہ ہے جو دونوں فریقین کو مضبوط کرے گا اور خاص طور پر ان خطوں میں دلچسپی کو بڑھائے گا جو کرکٹ سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔ کرکٹ کی اولمپکس میں اس واپسی نے نشریاتی حقوق کے حوالے سے بھی بڑی مانگ پیدا کردی ہے، اور آئی او سی نے تصدیق کی ہے کہ برصغیر پاک و ہند کے لیے براڈکاسٹنگ رائٹس کے حوالے سے گہری دلچسپی پائی جا رہی ہے۔ پیرس 2024 کے معاہدے کے مقابلے میں اس بار نشریاتی حقوق کی مالیت میں کئی گنا اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔ اس وقت خطے میں میڈیا مارکیٹ اور اولمپکس کے درمیان پہلے ہی مضبوط روابط موجود ہیں، جہاں مکیش امبانی کے جیو سٹار نے پیرس اولمپکس اور سرمائی اولمپکس کے حقوق کے ساتھ ساتھ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے بھی حقوق حاصل کر رکھے ہیں۔ کرکٹ کے اولمپکس تک پہنچنے کا طویل سفر ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کے عروج کے بغیر ناممکن تھا۔ روایتی ٹیسٹ اور ایک روزہ میچز اولمپک شیڈول کے لیے غیر عملی تھے، لیکن تین گھنٹے پر مشتمل تیز رفتار ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ نے اس مسئلے کو حل کر دیا۔ آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو سنجوگ گپتا نے اس بات پر زور دیا کہ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کی غیر یقینی صورتحال اور عالمگیر رسائی نے اسے اولمپکس کے لیے بالکل موزوں بنا دیا ہے۔ یہ طویل سفر جو سن 2007 میں شروع ہوا تھا، اب سن 2028 میں رنگ لانے کو تیار ہے جہاں کرکٹ اولمپک تاریخ کا ایک نیا باب رقم کرے گی۔