Technology
اسمن گولڈ کے تارکین وطن پر متنازع بیانات اور ٹویچ ڈراما
مشہور لائیو اسٹریمر اسمن گولڈ کو تارکین وطن کے خلاف متنازع اور اشتعال انگیز بیانات دینے پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس واقعے کے بعد آن لائن دنیا میں مباحثے اور ٹویچ پابندی کا ڈراما مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
انٹرنیٹ کی دنیا کے معروف لائیو اسٹریمر اسمن گولڈ ایک بار پھر شدید تنازع کی زد میں آ گئے ہیں۔ حال ہی میں ان کے ایک لائیو اسٹریم کے دوران دیے گئے بیانات پر سوشل میڈیا صارفین اور دیگر ڈیجیٹل تخلیق کاروں کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ اسمن گولڈ نے تین اگست کو ہونے والے ایک لائیو سیشن کے دوران تارکین وطن کے بارے میں انتہائی سخت اور متنازع تبصرے کیے، جن میں خواتین اور بچوں سمیت تارکین وطن پر فائرنگ کرنے کے حوالے سے باتیں کہی گئیں۔ ناظرین اور دیگر حلقوں کی طرف سے اس بیان پر گہرے دکھ اور غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ جب بعد میں ایک ناظر نے ان سے اس بیان کے بارے میں سوال کیا، تو اسمن گولڈ نے اس کی تصدیق کی کہ انہوں نے جو کچھ کہا تھا، وہ بالکل ہوش و حواس میں اور اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے کہا تھا۔ اس تصدیق کے بعد آن لائن کمیونٹی میں طوفان کھڑا ہو گیا اور مختلف اسٹریمرز نے اس پر کھل کر تنقید کی۔ معروف اسٹریمر حسن بائی (HasanAbi) نے اسمن گولڈ کے ان ریمارکس کو انتہائی جنون آمیز قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کی اشتعال انگیز گفتگو کسی بھی پلیٹ فارم پر قابل قبول نہیں ہونی چاہیے۔ اس تازہ ترین تنازع کے بعد ٹویچ (Twitch) پلیٹ فارم پر بھی پابندی کے حوالے سے قیاس آرائیوں اور ڈرامے میں اضافہ ہو گیا ہے۔ آن لائن پلیٹ فارمز کے ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کے حوالے سے بحث ایک بار پھر تازہ ہو گئی ہے کہ آیا ایسے اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کو اس قسم کی زبان استعمال کرنے کی اجازت دی جانی چاہئے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بیانات معاشرے میں نفرت کو ہوا دیتے ہیں اور ڈیجیٹل اسپیس کو غیر محفوظ بناتے ہیں۔ اسمن گولڈ کے حامیوں اور ناقدین کے درمیان اس وقت سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث جاری ہے اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ ٹویچ انتظامیہ اس معاملے پر کیا باضابطہ لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔