LIVE
Loading Breaking News...

یوکرینی کمانڈروں کی امریکی سینیٹ میں بریفنگ اور ڈرون جنگی تجربات

News Image
واشنگٹن میں سینیٹ کے بند کمرہ اجلاس کے دوران یوکرینی کمانڈروں نے امریکی حکام کو ڈرون جنگ سے متعلق اہم اسباق دیے۔ اس ملاقات کا مقصد امریکہ کو مالی امداد کے طلبگار کے بجائے ایک مساوی شراکت دار کے طور پر اپنے تجربات سے مستفید کرنا تھا۔
روس کے ساتھ جاری تنازع کے طویل عرصے کے دوران، یوکرینی حکام اکثر واشنگٹن کے دوروں پر عسکری سازوسامان، گولہ بارود اور مالی امداد کی درخواستیں لے کر پہنچتے رہے ہیں۔ تاہم گزشتہ ہفتے منظرنامہ اس وقت کچھ مختلف دکھائی دیا جب کیف کے نمائندوں نے محض ایک امداد طلب کرنے والے فریق کے بجائے ایک فعال اور مساوی شراکت دار کے طور پر امریکی دارالحکومت کا دورہ کیا۔ امریکہ میں سینیٹ کے اراکین کے ساتھ ہونے والی ایک بند کمرہ بریفنگ کے دوران، یوکرینی عسکری کمانڈروں نے روسی جارحیت کے خلاف جنگ میں ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال اور اس سے حاصل ہونے والے اہم اسباق پر روشنی ڈالی۔ اس ملاقات کا بنیادی مقصد امریکی عسکری قیادت اور قانون سازوں کو جدید جنگی خطوط پر ڈرون کے موثر استعمال سے متعلق عملی تجربات فراہم کرنا تھا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ مشرق وسطیٰ اور ایران کے تناظر میں نئے سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یوکرین اب مغربی ممالک کے لیے صرف ایک امداد یافتہ ملک نہیں رہا بلکہ وہ جدید جنگی حکمت عملی، بالخصوص سستی اور موثر ڈرون ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک تجربہ کار فریق بن چکا ہے۔ اس بریفنگ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یوکرین اپنی جنگی مہارت کو بین الاقوامی سطح پر ایک سفارتی اور عسکری اثاثے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ طویل المدتی شراکت داری کو مزید مستحکم کیا جا سکے، جب کہ واشنگٹن بھی اس بدلتی ہوئی جنگی حقیقت کو قریب سے سمجھنے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔