Pakistan
فتنہ الہندوستان نیٹ ورک بے نقاب، گرفتار دہشت گرد کے ہوشربا انکشافات
ایک گرفتار دہشت گرد نے تفتیش کے دوران فتنہ الہندوستان نیٹ ورک کی دہشت گردانہ سرگرمیوں، بھرتی اور ٹریننگ کے طریقوں کا پول کھول دیا ہے۔ ملزم نے انکشاف کیا ہے کہ اسے بلوچ عوام پر حملے کرنے کے لیے پچیس ہزار روپے معاوضہ دیا جاتا تھا۔
اسلام آباد: قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھ لگنے والے ایک اہم گرفتار دہشت گرد نے 'فتنہ الہندوستان' نامی تخریب کار نیٹ ورک کے تمام بھیانک عزائم اور اندرونی ڈھانچے کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے کئی اہم اور چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ دشمن عناصر کس طرح ملک کے اندر بدامنی پھیلانے کے لیے نوجوانوں کو استعمال کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس دہشت گرد نے اعتراف کیا ہے کہ اسے معصوم بلوچ عوام کو نشانہ بنانے اور دہشت گردانہ حملے کرنے کے لیے مالی معاونت فراہم کی جاتی تھی۔ ملزم کے مطابق اسے ہر حملے کے عوض پچیس ہزار پاکستانی روپے ادا کیے جاتے تھے، جس سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس طرح معمولی مالی لالچ دے کر اندرونی سلامتی کو خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ گرفتار عسکریت پسند نے فتنہ الہندوستان کے بھرتی کرنے کے خفیہ طریقوں، تربیتی مراکز اور مختلف دہشت گرد حملوں میں اپنے مذموم کردار کے بارے میں بھی تفصیلی معلومات فراہم کی ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں تاکہ اس کے تمام کارندوں اور سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ اس گرفتاری کو ملک دشمن عناصر کے خلاف ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جس کی روشنی میں قانون نافذ کرنے والے ادارے اب اس نیٹ ورک کی جڑیں اکھاڑنے کے لیے مزید چھاپے اور تحقیقات کر رہے ہیں۔