LIVE
Loading Breaking News...

سیٹلائٹ نیوی گیشن اور ڈرائیونگ رویے پر نیا سروے

News Image
ایک نئے سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ ڈرائیور حضرات اپنی منزل پر جلدی پہنچنے کی امید میں اکثر گاڑی میں نصب سیٹلائٹ نیوی گیشن سسٹم کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی پر مکمل بھروسہ نہ کرنے کا یہ رویہ عام ہوتا جا رہا ہے۔
سیٹلائٹ نیوی گیشن سسٹم، جو کہ جدید کاروں کی اہم ترین ٹیکنالوجی میں شمار ہوتا ہے، ڈرائیورز کی زندگی کو آسان بنانے اور انہیں محفوظ طریقے سے منزل تک پہنچانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ تاہم، ایک تازہ ترین سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اکثریت رکھنے والے ڈرائیورز اس ٹیکنالوجی پر اندھا دھند بھروسہ نہیں کرتے اور اپنی مرضی کا راستہ اختیار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ جب لوگوں کو لگتا ہے کہ وہ کسی شارٹ کٹ یا اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر زیادہ تیزی سے منزل مقصود پر پہنچ سکتے ہیں، تو وہ جی پی ایس یا سیٹلائٹ نیوی گیشن کی ہدایات کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات اور ٹرانسپورٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انسان کا یہ فطری رویہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی جبلت اور مقامی معلومات پر زیادہ اعتماد کرتا ہے، چاہے وہ ڈیجیٹل ڈیوائس ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے علاوہ، کبھی کبھار نیوی گیشن سسٹمز ٹریفک کے ہجوم یا غلط روٹس کی وجہ سے تاخیر کا سبب بھی بنتے ہیں، جس کی وجہ سے ڈرائیورز کا ان پر سے اعتماد متزلزل ہو جاتا ہے۔ سروے میں مزید یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بہت سے ڈرائیورز سفر کے دوران تفریح یا روٹ کی جانکاری کے لیے تو سیٹلائٹ نیوی گیشن کا استعمال کرتے ہیں، لیکن جب اصل وقت کی بات آتی ہے تو وہ اپنے تجربے کو ہی اولیت دیتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی خواہ کتنی ہی جدید کیوں نہ ہو جائے، انسانی جبلت اور فیصلہ سازی کی صلاحیت ہمیشہ ڈرائیونگ کے دوران ایک اہم ترین عنصر رہتی ہے۔ یہ سروے کار ساز کمپنیوں کے لیے بھی ایک لمحہ فکریہ ہے کہ وہ اپنے نیوی گیشن سسٹمز کو مزید بہتر بنائیں تاکہ صارفین کا ان پر اعتماد بڑھ سکے۔