World
تھریو ارتھ کا انڈونیشیا میں ماحولیاتی بحالی اور کاربن کے خاتمے کا بڑا معاہدہ
تھریو ارتھ نے انڈونیشیا کے علاقے سولاوسی میں چھ ہزار ہیکٹر اضی کی بحالی کے لیے اپنے پہلے کارپوریٹ آف ٹیک معاہدوں کا اعلان کر دیا ہے۔ گوگل اور میک کینسی سمیت کئی بڑی کمپنیاں کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے اس منصوبے میں شامل ہیں۔
سنگاپور میں ہونے والے ایک اہم اعلان کے مطابق تھریو ارتھ نے انڈونیشیا کے جزیرے سولاوسی میں چھ ہزار ہیکٹر رقبے پر محیط جنگلات اور ماحولیاتی نظام کی بحالی کے لیے کارپوریٹ آف ٹیک معاہدوں پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ اقدام خطے میں ماحولیاتی توازن کو بحال کرنے اور کاربن کے اخراج کے اثرات کو زائل کرنے کی جانب ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ منصوبے کے تحت عالمی سطح پر معروف کمپنیاں اس ماحولیاتی مہم میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔
اس پراجیکٹ کے بنیادی خریداروں میں سمبیوسس کولیشن کے اراکین شامل ہیں جن میں گوگل اور میک کینسی کے علاوہ نامور ٹیکنالوجی کمپنی ٹینسنٹ بھی شامل ہیں۔ ان تمام اداروں نے مجموعی طور پر چھ لاکھ پینتیس ہزار ٹن کاربن کے اخراج کو ختم کرنے کے معاہدے کیے ہیں۔ یہ اجتماعی کوشش اس بات کا ثبوت ہے کہ کارپوریٹ دنیا اب ماحولیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات اٹھانے میں سنجیدہ ہے اور پائیدار ترقی کے اہداف کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
تھریو ارتھ کے اس اقدام سے نہ صرف انڈونیشیا کے مقامی جنگلات کو نئی زندگی ملے گی بلکہ وہاں کے حیاتیاتی تنوع اور مقامی آبادیوں کے روزگار کے ذرائع کو بھی تقویت ملے گی۔ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ کاربن کے خاتمے کے اس طرح کے منصوبے عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو روکنے کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ اس شراکت داری سے آنے والے دنوں میں مزید کمپنیوں کے اس طرح کے سبز اقدامات کی طرف راغب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔